حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 298 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 298

۲۹۸ حقیقی خدا دانی تمام اسی میں منحصر ہے کہ اُس زندہ خدا تک رسائی ہو جائے کہ جو اپنے مقرب انسانوں سے نہایت صفائی سے ہم کلام ہوتا ہے اور اپنی پُر شوکت اور لذیذ کلام سے اُن کو تسلی اور سکینت بخشتا ہے۔اور جس طرح ایک انسان دوسرے انسان سے بولتا ہے ایسا ہی یقینی طور پر جو بکلی شک وشبہ سے پاک ہے اُن سے باتیں کرتا ہے اُن کی بات سنتا ہے اور اُس کا جواب دیتا ہے اور اُن کی دعاؤں کوسن کر دُعا کے قبول کرنے سے ان کو اطلاع بخشتا ہے اور ایک طرف لذیذ اور پُر شوکت قول سے اور دوسری طرف معجزانہ فعل سے اور اپنے قومی اور زبردست نشانوں سے اُن پر ثابت کر دیتا ہے کہ میں ہی خدا ہوں۔وہ اول پیشگوئی کے طور پر اُن سے اپنی حمایت اور نصرت اور خاص طور کی دستگیری کے وعدے کرتا ہے اور پھر دوسری طرف اپنے وعدوں کی عظمت بڑھانے کے لئے ایک دنیا کو اُن کے مخالف کر دیتا ہے اور وہ لوگ اپنی تمام طاقت اور تمام مکر و فریب اور ہر ایک قسم کے منصوبوں سے کوشش کرتے ہیں کہ خدا کے اُن وعدوں کو ٹال دیں جو اس کے اُن مقبول بندوں کی حمایت اور نصرت اور غلبہ کے بارے میں ہیں اور خدا ان تمام کوششوں کو برباد کرتا ہے۔وہ شرارت کی تخم ریزی کرتے ہیں اور خدا اس کی جڑ باہر پھینکتا ہے۔وہ آگ لگاتے ہیں اور خدا اس کو بجھا دیتا ہے۔وہ ناخنوں تک زور لگاتے ہیں۔آخر خدا اُن کے منصوبوں کو انہی پر اُلٹا کر مارتا ہے۔خدا کے مقبول اور راستباز نہایت سید ھے اور سادہ طبع اور خدا تعالیٰ کے سامنے اُن بچوں کی طرح ہوتے ہیں جو ماں کی گود میں ہوں اور دنیا اُن سے دشمنی کرتی ہے کیونکہ وہ دنیا میں سے نہیں ہوتے۔اور طرح طرح کے مکر اور فریب اُن کی بیخ کنی کے لئے کئے جاتے ہیں۔قو میں اُن کے ایذا دینے کے لئے متفق ہو جاتی ہیں۔اور تمام نا اہل لوگ ایک ہی کمان سے ان کی طرف تیر چلاتے ہیں اور طرح طرح کے افترا اور تہمتیں لگائی جاتی ہیں تا کسی طرح وہ ہلاک ہو جائیں اور ان کا نشان نہ رہے مگر آخر خدائے تعالیٰ اپنی باتوں کو پوری کر کے دکھلا دیتا ہے۔اسی طرح اُن کی زندگی میں یہ معاملہ اُن سے جاری رہتا ہے کہ ایک طرف وہ مکالمات صحیحہ واضحہ یقینیہ سے مشرف کئے جاتے ہیں اور امور غیبیہ جن کا علم انسانوں کی طاقت سے باہر ہے اُن پر خدائے کریم و قدیر اپنے صریح کلام کے ذریعہ سے منکشف کرتا رہتا ہے اور دوسری طرف مجزا نہ افعال سے جو اُن اقوال کو سچ کر کے دکھلاتے ہیں اُن کے یقین کو نور علی نور کیا جاتا ہے۔اور جس قدر انسان کی طبیعت تقاضا کرتی ہے کہ خدا کی یقینی شناخت کے لئے اس قدر معرفت چاہئے وہ معرفت قولی اور فعلی تجلی سے پوری کی جاتی ہے۔یہاں تک کہ ایک ذرہ کے برابر بھی تاریکی درمیان نہیں رہتی۔یہ خدا ہے جس کے ان قولی فعلی تجلیات کے بعد