حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 230

۲۳۰ کامل تو حید صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ملتی ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۲۰، ۱۲۱) یا درکھو کہ انسان کی ہرگز یہ طاقت نہیں ہے کہ ان تمام دقیق در دقیق خدا کے کاموں کو دریافت کر سکے بلکہ خدا کے کام عقل اور فہم اور قیاس سے برتر ہیں اور انسان کو صرف اپنے اس قدر علم پر مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ اس کو کسی حد تک سلسلہ علل و معلولات کا معلوم ہو گیا ہے کیونکہ انسان کا وہ علم نہایت ہی محدود۔ہے جیسا کہ سمندر کے ایک قطرہ میں سے کروڑم حصہ قطرہ کا۔اور حق بات یہ ہے کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ خود نا پیدا کنار ہے ایسا ہی اس کے کام بھی نا پیدا کنار ہیں۔اور اس کے ہر ایک کام کی اصلیت تک پہنچنا انسانی طاقت سے برتر اور بلند تر ہے۔ہاں ہم اس کی صفات قدیمہ پر نظر کر کے یہ کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ خدا تعالیٰ کی صفات کبھی معطل نہیں رہتیں اس لئے خدا تعالیٰ کی مخلوق میں قدامت نوعی پائی جاتی ہے۔یعنی مخلوق کی انواع میں سے کوئی نہ کوئی نوع قدیم سے موجود چلی آئی ہے۔مگر شخصی قدامت باطل ہے۔اور باوجود اس کے خدا کی صفت افتاء اور اہلاک بھی ہمیشہ اپنا کام کرتی چلی آتی ہے وہ بھی کبھی معطل نہیں ہوئی۔اور اگر چہ نادان فلاسفروں نے بہت ہی زور لگایا کہ زمین و آسمان کے اجرام واجسام کی پیدائش کو اپنے سائینس یعنی طبعی قواعد کے اندر داخل کر لیں اور ہر ایک پیدائش کے اسباب قائم کریں مگر سچ یہی ہے کہ وہ اس میں نا کام اور نامراد ر ہے ہیں اور جو کچھ ذخیرہ اپنی طبعی تحقیقات کا انہوں نے جمع کیا ہے وہ بالکل نا تمام اور نامکمل ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی اپنے خیالات پر قائم نہیں رہ سکے اور ہمیشہ ان کے خود تراشیدہ خیالات میں تغیر تبدل ہوتا رہا ہے اور معلوم نہیں کہ آگے کس قدر ہو گا۔اور چونکہ ان کی تحقیقاتوں کی یہ حالت ہے کہ تمام مدار ان کا صرف اپنی عقل اور قیاس پر ہے اور خدا سے کوئی مددان کو نہیں ملتی اس لئے وہ تاریکی سے باہر نہیں آ سکتے۔اور در حقیقت کو ئی شخص خدا کو شناخت نہیں کر سکتا جب تک اس حد تک اس کی معرفت نہ پہنچ جائے کہ وہ اس بات کو سمجھ لے کہ خدا کے بے شمار کام ایسے ہیں کہ جو انسانی طاقت اور عقل اور فہم سے بالاتر اور بلند تر ہیں اور اس مرتبہ معرفت سے پہلے یا تو انسان محض دہریہ ہوتا ہے اور خدا کے وجود پر ایمان ہی نہیں رکھتا اور یا اگر خدا کو مانتا ہے تو صرف اس خدا کو مانتا ہے کہ جو اس کے خود تراشیدہ دلائل کا ایک نتیجہ ہے نہ اس خدا کو جو اپنی تجلی سے اپنے تئیں آپ ظاہر کرتا ہے اور جس کی قدرتوں کے اسرار اس قدر ہیں کہ انسانی عقل ان کا احاطہ نہیں کہ سکتی۔جب سے خدا نے مجھے یہ علم دیا ہے کہ خدا کی قدرتیں عجیب در عجیب اور عمیق در عمیق اور وراء الوراء لائید رک ہیں تب سے میں ان