حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 229

۲۲۹ خدا کی ذات غیب الغیب اور وراء الوراء اور نہایت مخفی واقع ہوئی ہے جس کو عقولِ انسانیہ محض اپنی طاقت سے دریافت نہیں کر سکتیں اور کوئی برہان عقلی اُس کے وجود پر قطعی دلیل نہیں ہوسکتی۔کیونکہ عقل کی دوڑ اور سعی صرف اس حد تک ہے کہ اس عالم کی صنعتوں پر نظر کر کے صانع کی ضرورت محسوس کرے۔مگر ضرورت کا محسوس کرنا اور شے ہے۔اور اس درجہ عین الیقین تک پہنچنا کہ جس خدا کی ضرورت تسلیم کی گئی ہے وہ درحقیقت موجود بھی ہے یہ اور بات ہے۔اور چونکہ عقل کا طریق ناقص اور نا تمام اور مشتبہ ہے اس لئے ہر ایک فلسفی محض عقل کے ذریعہ سے خدا کو شناخت نہیں کر سکتا۔بلکہ اکثر ایسے لوگ جو محض عقل کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کا پتہ لگانا چاہتے ہیں آخر کار دہر یہ بن جاتے ہیں۔اور مصنوعات زمین و آسمان پر غور کرنا کچھ بھی اُن کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔اور خدا تعالیٰ کے کاملوں پر ٹھٹھا اور بنسی کرتے ہیں اور اُن کی یہ حجت ہے کہ دنیا میں ہزار ہا ایسی چیزیں پائی جاتی ہیں جن کے وجود کا ہم کوئی فائدہ نہیں دیکھتے۔اور جن میں ہماری عقلی تحقیق سے کوئی ایسی صنعت ثابت نہیں ہوتی جو صانع پر دلالت کرے بلکہ محض لغو اور باطل طور پر ان چیزوں کا وجود پایا جاتا ہے۔افسوس وہ نادان نہیں جانتے کہ عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا۔اس قسم کے لوگ کئی لاکھ اس زمانہ میں پائے جاتے ہیں۔جو اپنے تئیں اوّل درجہ کے عقلمند اور فلسفی سمجھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے وجود سے سخت منکر ہیں۔اب ظاہر ہے کہ اگر کوئی عقلی دلیل زبر دست ان کو ملتی تو وہ خدا تعالیٰ کے وجود کا انکار نہ کرتے اور اگر وجود باری جل شانہ پر کوئی برہان یقینی عقلی ان کو ملزم کرتی تو وہ سخت بے حیائی اور ٹھٹھے اور ہنسی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے وجود سے منکر نہ ہو جاتے۔پس کوئی شخص فلسفیوں کی کشتی پر بیٹھ کر طوفان شبہات سے نجات نہیں پاسکتا بلکہ ضرور غرق ہو گا۔اور ہرگز ہرگز شربت تو حید خالص اوس کو میسر نہیں آئے گا۔اب سوچو کہ یہ خیال کس قدر باطل اور بد بودار ہے کہ بغیر وسیلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے توحید میسر آ سکتی ہے۔اور اس سے انسان نجات پاسکتا ہے۔اے نادانو! جب تک خدا کی ہستی پر یقین کامل نہ ہو اُس کی توحید پر کیونکر یقین ہو سکے۔پس یقینا سمجھو کہ توحید یقینی محض نبی کے ذریعہ سے ہی مل سکتی ہے جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے دہریوں اور بد مذہبوں کو ہزار ہا آسمانی نشان دکھلا کر خدا تعالیٰ کے وجود کا قائل کر دیا اور اب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور کامل پیروی کرنے والے اُن نشانوں کو دہریوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔بات یہی سچ ہے کہ جب تک زندہ خدا کی زندہ طاقتیں انسان مشاہدہ نہیں کرتا شیطان اس کے دل میں سے نہیں نکلتا اور نہ سچی تو حید اُس کے دل میں داخل ہوتی ہے اور نہ یقینی طور پر خدا کی ہستی کا قائل ہو سکتا ہے اور یہ پاک اور