حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 205
۲۰۵ کو کیا کریں جو مُردہ مذہب ہے۔ہم ایسی کتاب سے کیا فائدہ اُٹھا سکتے ہیں جو مُردہ کتاب ہے۔اور ہمیں ایسا خدا کیا فیض پہنچا سکتا ہے جو مُردہ خدا ہے۔چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۵۳،۳۵۲) کسی مذہب کے قبول کرنے سے غرض یہ ہے کہ وہ طریق اختیار کیا جائے جس سے خدائے غنی مطلق جو مخلوق اور مخلوق کی عبادت سے بکلی بے نیاز ہے راضی ہو جائے۔اور اس کے فیوض رحمت اتر نے شروع ہو جائیں جن سے اندرونی آلائشیں دُور ہو کر صحن سینہ یقین اور معرفت سے پر ہو جائے سو یہ تدبیر اپنی فکر سے پیدا کرنا انسان کا کام نہیں تھا۔اس لئے اللہ جل شانہ نے اپنے وجود اور اپنے عجائبات قدرت خالقیت یعنی ارواح و اجسام و ملائک و دوزخ و بهشت و بعث و حشر و رسالت و دیگر تمام اسرار مبدء و معاد کو یکساں طور پر پردہ غیب میں رکھ کر اور کچھ کچھ قیاسی یا امکانی طور پر عقل کو اس کو چہ میں گذر بھی دے کر غرض کچھ دکھلا کر اور کچھ چھپا کر بندوں کو ان سب باتوں پر ایمان لانے کے لئے مامور کیا۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۸۱) سچا مذ ہب شناخت کرنے کے لئے صرف تین باتوں کا دیکھنا ضروری ہے (۱) اوّل یہ کہ اس مذہب میں خدا کی نسبت کیا تعلیم ہے۔یعنی اس کی توحید اور قدرت اور علم اور کمال اور عظمت اور سزا اور رحمت اور دیگر لوازم اور خواص الوہیت کی نسبت کیا بیان ہے۔(۲) دوسرے طالب حق کے لئے یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ اس مذہب میں جس کو وہ پسند کرے اس کے نفس کے بارے میں اور ایسا ہی عام طور پر انسانی چال چلن کے بارے میں کیا تعلیم ہے۔کیا کوئی ایسی تعلیم تو نہیں کہ جو انسانی حقوق کے باہمی رشتہ کو توڑتی ہو یا انسان کو دیوثی کی طرف کھینچتی ہو۔یا دیو ٹی امور کو مستلزم ہو اور فطرتی حیا اور شرم کی مخالف ہو۔اور نہ کوئی ایسی تعلیم ہو کہ جو خدا کے عام قانون قدرت کے مخالف پڑی ہو۔اور نہ کوئی ایسی تعلیم ہو جس کی پابندی غیر ممکن یا منتج خطرات ہو۔اور نہ کوئی ضروری تعلیم جو مفاسد کے روکنے کے لئے اہم ہے ترک کی گئی ہو۔اور نیز یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ کیا وہ تعلیم ایسے احکام سکھلاتی ہے یا نہیں کہ جو خدا کو عظیم الشان محسن قرار دے کر بندہ کا رشتہ محبت اُس سے محکم کرتے ہوں اور تاریکی سے نور کی طرف لے جاتے ہوں اور غفلت سے حضور اور یادداشت کی طرف کھینچتے ہوں۔(۳) تیسرے طالب حق کے لئے یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ وہ اس مذہب کو پسند کرے جس کا خدا