حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 204
۲۰۴ واضح رہے کہ مذہب کے اختیار کرنے سے اصل غرض یہ ہے کہ تا وہ خدا جو سر چشمہ نجات کا ہے اس پر ایسا کامل یقین آ جائے کہ گویا اس کو آنکھ سے دیکھ لیا جائے کیونکہ گناہ کی خبیث روح انسان کو ہلاک کرنا چاہتی ہے اور انسان گناہ کی مہلک زہر سے کسی طرح بچ نہیں سکتا جب تک اس کو اس کامل اور زندہ خدا پر پورا یقین نہ ہو اور جب تک معلوم نہ ہو کہ وہ خدا ہے جو مجرم کو سزا دیتا ہے اور راستباز کو ہمیشہ کی خوشی پہنچاتا ہے۔یہ عام طور پر ہر روز دیکھا جاتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مہلک ہونے پر کسی کو یقین آ جائے تو پھر وہ شخص اس چیز کے نزدیک نہیں جاتا مثلاً کوئی شخص عمدا ز ہر نہیں کھا تا۔کوئی شخص شیر خونخوار کے سامنے کھڑا نہیں ہوسکتا اور کوئی شخص عمد اسانپ کے سوراخ میں ہاتھ نہیں ڈالتا۔پھر عمد ا گناہ کیوں کرتا ہے۔اس کا یہی باعث ہے کہ وہ یقین اس کو حاصل نہیں جو اِن دوسری چیزوں پر حاصل ہے۔پس سب سے مقدم انسان کا یہ فرض ہے کہ خدا پر یقین حاصل کرے اور اس مذہب کو اختیار کرے جس کے ذریعہ سے یقین حاصل ہو سکتا ہے تا وہ خدا سے ڈرے اور گناہ سے بچے مگر ایسا یقین حاصل کیونکر ہو؟ کیا یہ صرف قصوں کہانیوں سے حاصل ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔کیا یہ محض عقل کے ظنی دلائل سے میسر آ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔پس واضح ہوا کہ یقین کے حاصل ہونے کی صرف ایک ہی راہ ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے مکالمہ کے ذریعہ سے اس کے خارق عادت نشان دیکھے اور بار بار کے تجربہ سے اس کی جبروت اور قدرت پر یقین کرے یا ایسے شخص کی صحبت میں رہے جو اس درجہ تک پہونچ گیا ہے۔(نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۴۴۷، ۴۴۸) مذہب سے غرض کیا ہے؟ بس یہی کہ خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی صفات کاملہ پر یقینی طور پر ایمان حاصل ہو کر نفسانی جذبات سے انسان نجات پا جاوے اور خدا تعالیٰ سے ذاتی محبت پیدا ہو کیونکہ درحقیقت وہی بہشت ہے جو عالم آخرت میں طرح طرح کے پیرائیوں میں ظاہر ہوگا۔اور حقیقی خدا سے بے خبر رہنا اور اس سے دُور رہنا اور سچی محبت اس سے نہ رکھنا درحقیقت یہی جہنم ہے جو عالم آخرت میں انواع واقسام کے رنگوں میں ظاہر ہوگا۔اور اصل مقصود اس راہ میں یہ ہے کہ اس خدا کی ہستی پر پورا یقین حاصل ہو اور پھر پوری محبت ہو۔اب دیکھنا چاہئے کہ کون سا مذ ہب اور کون سی کتاب ہے جس کے ذریعہ سے یہ غرض حاصل ہو سکتی ہے۔انجیل تو صاف جواب دیتی ہے کہ مکالمہ اور مخاطبہ کا دروازہ بند ہے اور یقین کرنے کی راہیں مسدود ہیں۔اور جو کچھ ہوا وہ پہلے ہو چکا اور آگے کچھ نہیں ہم ایسے مذہب۔