حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 112
۱۱۲ حضرت موسیٰ کی امت میں سے خلیفے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی شریعت کو قائم کرنے کے لئے پے در پے بھیجا تھا اور خاص کر کسی صدی کو ایسے خلیفوں سے جو دین موسوی کے مجد د تھے خالی نہیں جانے دیا تھا۔اور قرآن شریف نے ایسے خلیفوں کا شمار کر کے ظاہر فرمایا ہے کہ وہ باراں ہیں اور تیرھواں حضرت عیسی علیہ السلام ہیں جو موسوی شریعت کا مسیح موعود ہے اور اس مماثلت کے لحاظ سے جو آیت ممدوحہ میں كَمَا کے لفظ سے مستنبط ہوتی ہے ضروری تھا کہ محمدی خلیفوں کو موسوی خلیفوں سے مشابہت اور مماثلت ہو سو اسی مشابہت کے ثابت اور محقق کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں بارہ موسوی خلیفوں کا ذکر فرمایا جن میں سے ہر ایک حضرت موسیٰ کی قوم میں سے تھا اور تیرھواں حضرت عیسی علیہ السلام کا ذکر فرمایا جو موسیٰ کی قوم کا خاتم الانبیاء تھا مگر در حقیقت موسی" کی قوم میں سے نہیں تھا اور پھر خدا نے محمدی سلسلہ کے خلیفوں کو موسوی سلسلہ کے خلیفوں سے مشابہت دے کر صاف طور پر سمجھا دیا کہ اس سلسلہ کے آخر میں بھی ایک مسیح ہے اور درمیان میں باراں خلیفے ہیں تا موسوی سلسلہ کے مقابل پر اس جگہ بھی چوداں کا عدد پورا ہو۔ایسا ہی سلسلہ محمدی خلافت کے مسیح موعود کو چودھویں صدی کے سر پر پیدا کیا کیونکہ موسوی سلسلہ کا مسیح موعود بھی ظاہر نہیں ہوا تھا جب تک کہ سن موسوی کے حساب سے چودھویں صدی نے ظہور نہیں کیا تھا۔ایسا کیا گیا تا دونوں مسیحوں کا مبدء سلسلہ سے فاصلہ باہم مشابہ ہو۔۔اگر در حقیقت وہی عیسی علیہ السلام ہے جو دوبارہ آنے والا ہے تو اس سے قرآن شریف کی تکذیب لازم آتی ہے۔کیونکہ قرآن جیسا کہ گما کے لفظ سے مستنبط ہوتا ہے دونوں سلسلوں کے تمام خلیفوں کو من وجہ مغائر قرار دیتا ہے اور یہ ایک نَصِ قطعی ہے کہ اگر ایک دنیا اس کے مخالف اکٹھی ہو جائے تب بھی وہ اس نَص واضح کو رد نہیں کر سکتے کیونکہ جب پہلے سلسلہ کا عین ہی نازل ہو گیا تو وہ مغائرت فوت ہوگئی اور لفظ گما کا مفہوم باطل ہو گیا۔پس اس صورت میں تکذیب قرآن شریف لازم ہوئی۔وَهــذا بَاطِلٌ وَكُلُّ مَا يَسْتَلْزِمُ الْبَاطِلَ فَهُوَ بَاطِلٌ۔یادر ہے کہ قرآن شریف نے آیت كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمُ میں وہی كَمَا استعمال کیا ہے جو آیت كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا میں ہے۔(تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۱۲۰ تا ۱۲۷) ایسا ہی قرآن شریف کی رو سے سلسلہ محمد یہ سلسلہ موسویہ سے ہر یک نیکی اور بدی میں مشابہت رکھتا ہے۔اسی کی طرف ان آیتوں میں اشارہ ہے کہ ایک جگہ یہود کے حق میں لکھا ہے فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ کے دوسری جگہ مسلمانوں کے حق میں لکھا ہے۔لِتَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ ان الاعراف : ١٣٠ یونس : ۱۵