حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 111 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 111

زمین جو ایمان اور توحید سے خالی ہو کر ظلم سے بھر گئی ہے پھر اس کو عدل سے پُر کرنا لہذا یہی شخص مہدی اور مسیح موعود ہے اور وہ میں ہوں اور جس طرح کسی دوسرے مدعی مہدویت کے وقت میں کسوف خسوف رمضان میں آسمان پر نہیں ہوا ایسا ہی تیرہ سو برس کے عرصہ میں کسی نے خدا تعالیٰ کے الہام سے علم پا کر یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اس پیشگوئی لَنَالَهُ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسَ کا مصداق میں ہوں۔(تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۱۱۵،۱۱۴) اور منجملہ ان دلائل کے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود اسی امت میں سے ہو گا قرآن شریف کی یہ آیت ہے كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاس یا اس کا ترجمہ یہ ہے کہ تم بہترین امت ہو جو اس لئے نکالی گئی ہو کہ تا تم تمام دجالوں اور دجال معہود کا فتنہ فروکر کے اور اُن کے شر کو دفع کر کے مخلوق خدا کو فائدہ پہونچاؤ یادر ہے کہ ہر ایک اُمت سے ایک خدمت دینی لی جاتی ہے اور ایک قسم کے دشمن کے ساتھ اس کا مقابلہ پڑتا ہے سو مقدر تھا کہ اس امت کا دجال کے ساتھ مقابلہ پڑے گا جیسا کہ حدیث نافع بن عقبہ سے مسلم میں صاف لکھا ہے کہ تم دجال کے ساتھ لڑو گے اور فتح پاؤ گے۔اگر چہ صحابہ دجال کے ساتھ نہیں لڑے مگر حسب منطوق آخَرِيْنَ مِنْهُمْ مسیح موعود اور اس کے گروہ کو صحا بہ قرار دیا۔اب دیکھو اس حدیث میں بھی لڑنے والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو جو امت ہیں قرار دیا اور یہ نہ کہا کہ مسیح بنی اسرائیلی لڑے گا اور نزول کا لفظ محض اجلال اور اکرام کے لئے ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چونکہ اُس پر فساد زمانہ میں ایمان ثریا پر چلا جائے گا اور تمام پیری مریدی اور شاگردی استادی اور افادہ استفادہ معرض زوال میں آجائے گا اس لئے آسمان کا خدا ایک شخص کو اپنے ہاتھ سے تربیت دے کر بغیر توسط زمینی سلسلوں کے زمین پر بھیجے گا جیسے کہ بارش آسمان سے بغیر توسط انسانی ہاتھوں کے نازل ہوتی ہے۔اور منجملہ دلائل قویہ قطعیہ کے جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں جو مسیح موعود اسی امت محمدیہ میں سے ہو گا قرآن شریف کی یہ آیت ہے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ الخ یعنی خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے جو ایمان دار ہیں اور نیک کام کرتے ہیں وعدہ فرمایا ہے جو ان کو زمین پر انہی خلیفوں کی مانند جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں خلیفے مقرر فرمائے گا۔اس آیت میں پہلے خلیفوں سے مراد ال عمران: ااا النور : ۵۶