حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 99
۹۹ اگر نشانوں کے دیکھنے کے بعد کوئی کھلی صداقت کو مان لے گا تو مجھے کیا اور اس کو اجر کیا اور حضرت عزت میں اس کی عزت کیا۔مجھے در حقیقت انہوں نے ہی قبول کیا ہے جنہوں نے دقیق نظر سے مجھ کو دیکھا اور فراست سے میری باتوں کو وزن کیا اور میرے حالات کو جانچا اور میری کلام کو سُنا اور اس میں غور کی تب اسی قدر قرائن سے خدا تعالیٰ نے اُن کے سینوں کو کھول دیا۔اور میرے ساتھ ہو گئے۔میرے ساتھ وہی ہے جو میری مرضی کے لئے اپنی مرضی کو چھوڑتا ہے اور اپنے نفس کے ترک اور اخذ کے لئے مجھے حکم بناتا ہے اور میری راہ پر چلتا ہے اور اطاعت میں فانی ہے اور انانیت کی جلد سے باہر آ گیا ہے۔مجھے آہ کھینچ کر یہ کہنا پڑتا ہے کہ کھلے نشانوں کے طالب وہ تحسین کے لائق خطاب اور عزت کے لائق مرتبے میرے خداوند کی جناب میں نہیں پاسکتے جو ان راستبازوں کو ملیں گے جنہوں نے چھپے ہوئے بھید کو پہچان لیا اور جو اللہ جل شانہ کی چادر کے تحت میں ایک چھپا ہوا بندہ تھا اس کی خوشبو ان کو آ گئی۔انسان کا اس میں کیا کمال ہے کہ مثلاً ایک شہزادہ کو اپنی فوج اور جاہ و جلال میں دیکھ کر پھر اس کو سلام کرے با کمال وہ آدمی ہے جو گداؤں کے پیرا یہ میں اس کو پاوے اور شناخت کر لیوے۔مگر میرے اختیار میں نہیں کہ یہ زیر کی کسی کو دوں۔ایک ہی ہے جو دیتا ہے وہ جس کو عزیز رکھتا ہے ایمانی فراست اس کو عطا کرتا ہے۔انہی باتوں سے ہدایت پانے والے ہدایت پاتے ہیں اور یہی باتیں اُن کے لئے جن کے دلوں میں کبھی ہے زیادہ تر کمی کا موجب ہو جاتی ہیں۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۵۰،۳۴۹) میرے ساتھ آپ کا مقابلہ تقویٰ سے بعید ہے کیونکہ آپ لوگوں کی دستاویز صرف وہ حدیثیں ہیں جن میں سے کچھ موضوع اور کچھ ضعیف اور کچھ ان میں سے ایسی ہیں جن کے معنے آپ لوگ سمجھتے نہیں مگر آپ کے مقابل پر میرا دعویٰ علی وجہ البصیرت ہے اور جس وجی نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور آنے والا مسیح موعود یہی عاجز ہے اس پر میں ایسا ہی ایمان رکھتا ہوں جیسا کہ میں قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہوں اور یہ ایمان صرف حسن اعتقاد سے نہیں بلکہ وحی الہی کی روشنی نے جو آفتاب کی طرح میرے پر چکی ہے یہ ایمان مجھے عطا فرمایا ہے۔جس یقین کو خدا نے خارق عادت نشانوں کے تواتر اور معارف یقینیہ کی کثرت سے اور ہر روزہ یقینی مکالمہ اور مخاطبہ سے انتہا تک پہنچا دیا ہے اس کو میں کیونکر اپنے دل میں سے باہر نکال دوں؟ کیا میں اس نعمت معرفت اور علم صحیح کو رڈ کر دوں جو مجھ کو دیا گیا ہے؟ یا وہ آسمانی نشان جو مجھے دکھائے جاتے ہیں میں اُن سے منہ پھیر لوں یا میں اپنے