مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 55
۵۵ - مصداق تھے۔وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةٌ يَهْدُونَ بأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ (پ ۲۱ سجدہ) کے۔اور ان کی دعائیں وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اِمَامًا (پ ۱۹ (فرقان) ضرور ہی قبول ہو ئیں۔پس بڑے ہی بے نصیب ہیں وہ لوگ جو انسانی امامت کے منکر ہیں۔اور اِنّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا کے بھید سے ناواقف ہیں۔ان کی عملی حالتیں ان پر خود ملامت کرتی ہوں گی اگر فطرت سلیمہ باقی ہے۔بحمد اللہ ہم نے ان سب کے اسفار طیبہ کو خوب غور سے پڑھا اور ہم علی بصیرۃ اس نتیجہ پر پہنچ گئے ہیں کہ یہ سب لوگ خدا تعالیٰ کے برگزیدوں میں اور ہادیوں میں سے تھے۔ہم نے لغت میں بخاری۔اصمعی - ابو عبیدہ - ابو عبید - مفردات راغب نہایہ - مجمع البحار - لسان العرب اور صرف و نحو میں سیبویہ - ابن مالک - ابن ہشام اور سیوطی اور قرأت میں شاطبی اور ابو عمر دوانی اور معانی و بیان میں عبد القاہر جرجانی مصنف دلائل الاعجاز اور اسرار البلاغہ اور سکا کی مصنف مفتاح العلوم اور ادب میں اصمعی اور تفاسیر میں روایتہ " ابن جریر۔ابن کثیر شوکانی کی فتح القدیر اور د رايتة وروايته دونوں میں امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور فقط درایت میں تفسیر کبیر کو ائمہ سلف کے بعد انتخاب کیا ہے۔قریب زمانہ کے جو ہندوستانیوں میں اصحاب تصنیف گزرے ہیں۔ان میں صاحب حجتہ اللہ البالغہ اور ازالته الحفاء شاہ ولی اللہ کو میں ممتاز انسان اور صافی الذہن جانتا ہوں۔میں حضرت مسیح کی وفات کا قائل ہوں اور میرا کامل یقین ہے کہ وہ قتل اور پھانسی سے بچ کر اپنی موت سے مرچکے۔اس امت میں أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ مَغْضُوبِ ضال تینوں قسم کے لوگ موجود ہیں۔پس وہ مسیح موعود علیہ السلام بھی موجود ہے۔جس کو ہم میں نازل ہونا تھا۔وہ مہدی معہود اور اس وقت کا امام بھی ہے۔وہ اختلافوں میں حکم ہے۔ہم نے اس کی آیات بینات کو دیکھا اور ہم گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ڈر کر جزا و سزا حشر اجساد جنت و نار۔اپنی بے ثبات زندگی کو نصیب العین رکھ کر اس کو امام مان لیا ہے۔ہم نے اپنے مقتداؤں میں ابن حزم اور ابن تیمیہ کو بھی شمار کیا ہے۔اس کی تائید میں صرف دو قول یہاں لکھتے ہیں۔اول ایک شخص اہل اللہ میں سے ہے۔