مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 47 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 47

مذہب و عقائد (حضرت امیر المومنین کے اپنے الفاظ میں) ایڈیٹر رسالہ البیان کے نام ماہ ستمبر ۱۹۰۸ء میں آپ نے ایک خط لکھا جس میں ظاہر فرمایا ہے کہ ہمارا مذہب کیا ہے وہ عبارت اخبار الحکم سے یہاں نقل کی جاتی ہے۔جناب من ہمار امذ ہب کیا ہے ؟ مختصر ا عرض ہے۔اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ اللہ تعالیٰ تمام صفات کا ملہ سے موصوف اور ہر قسم کے عیب و نقص سے منزہ ہے۔اپنی ذات میں یکتا اور صفات میں بے ہمتا۔اپنے افعال میں لیس کمثل اور اپنے تمام عبادات میں وَحْدَهُ لا شَرِیک - ۲ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور ان پر ایمان لابد ہے۔۔تمام کتب الهیه - ۴۔تمام رسولوں اور نبیوں۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم المکی و المدنی محمد بن عبد الله - ابن آمنہ - خاتم النبین ، رسول رب العالمین ہیں اور آپ پر جو کتاب نازل ہوئی۔کیا معنی ! اس پر اور ان تمام چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔قرآن کریم بلا تحریف و تبدیل و کمی و زیادتی کے اسی ترتیب موجودہ پر ہم کو حضرت نبی کریم سے پہنچا۔تقدیر کا مسئلہ حق ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تمام اشیاء جو ہیں اور جو ہوں گی اور جو ہو چکیں سب کا اتم و اکمل طور پر علم ہے۔جزئیات کا بھی وہ عالم ہے۔نیکی کا ثمرہ نیک اور بدی کا نتیجہ ہد ہوتا ہے۔جیسا کوئی کرتا ہے ویساہی پاتا ہے۔يَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ