مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 301
عاشق صادق اول المبائعين اور اول المهاجرین تھے۔اللہ کریم کی ہزاروں برکتیں اور رحمتیں آپ کی روح پر اور آپ کی آل اولاد پر ہوں۔ابدالاباد کے لئے۔اور جیسا کہ رب تعالیٰ نے آپ کو اس دنیا میں حسنات سے مالا مال کیا ایسا ہی اور اس سے بڑھ کر اس عالم میں بھی اللہ تعالی انہیں تمام حسنات اور انعامات سے مالا مال کرتا رہے اور اپنے رضاء قرب کے مقامات و مدارج پر ترقی دیتا رہے۔ابد الاباد کے لئے۔آمین ثم آمین۔ریاست جموں کی ملازمت سے جب آپ علیحدہ ہوئے۔میں اس وقت آپ کی خدمت میں موجود تھا۔کیونکہ میں بھی اس وقت جموں ہائی اسکول میں ٹیچر تھا۔ہزار پندرہ سو روپے ماہوار آپ کی آمدنی تھی۔اور خرچ جو قریباً سارا ہی فی سبیل اللہ ہو تا تھا۔وہ اس کے برابریا اس سے زیادہ ہو تا تھا۔کبھی آپ کی عادت نہ تھی کہ روپیہ پیسہ جمع رکھیں۔اس حالت میں ملازمت ریاست سے اچانک علیحدگی کے باوجود نہ آپ کے چہرہ پر کوئی ملال تھا۔نہ اس کا کوئی احساس تھا۔جیسا روز مرہ آپ درس تدریس میں بیماروں کو دیکھنے میں لوگوں کو امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے میں اپنی کتب کے مطالعہ کرنے میں مصروف اپنی نشست گاہ میں کھلا دربار لگائے بیٹھے رہتے تھے۔جہاں لوگ بے تکلف آتے جاتے رہتے تھے ، ایسا ہی اس دن اور اس سے دوسرے دن جو تیاری سفر کا دن تھا، آپ حسب معمول بیٹھے رہے۔گو یا علیحدگی ملازمت کا واقعہ ہوا ہی نہیں یا ہوا ہے تو روز مرہ کی باتوں میں سے ایک معمولی سی بات ہے۔جموں سے آپ اپنے وطن بھیرہ تشریف لے گئے۔وہاں آپ کے مکان کے سامنے آپکی مملوکہ بہت سی خالی زمین پڑی تھی۔اس پر مطب اور مہمانوں کی رہائش کے واسطے مکانات بننے شروع ہو گئے۔یہ غالبا ۱۸۹۲ء کا واقعہ ہے۔بھیرہ اس وقت پنجاب بھر کے بیماروں کے واسطے رجوع کا مرکز بن گیا۔دور نزدیک سے لوگ آنے شروع ہو گئے۔صدہا بیماروں کا روزانہ علاج کیا جاتا اور دوائی حسب معمول مفت دی جاتی۔اسی حال میں کہ مکانات تیار ہو رہے تھے۔آپ کو کسی ضرورت کے واسطے دو تین دن کے لئے لاہور آنا پڑا۔لاہور پہنچ کر قادیان قریب ہونے کے سبب آپ ایک روز کے واسطے قادیان