مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 278
۲۷۸ دے سکا اور نہایت سراسیمہ ہو گیا اور اب تک بھی جواب نہیں دے سکتا۔(۱۰) تمبر ۱۹۰۹ء) ایک عیسائی مجھ کو ریل میں ملا۔میں نے اس سے کہا کہ تم بڑی کوشش کرتے ہو۔کہنے لگا کہ جس کا گھر پہاڑ پر بنا ہو اس کو کیا فکر ، لیکن جس کا گھر ریت کے تو وہ پر بنا ہو وہ کوشش بھی نہ کرے ؟ ہمارامذہب تو ریت کے تو وہ پر ہے۔ہم کوشش نہ کریں تو کیا کریں۔(۳۰/ جنوری ۱۹۰۹ء) راولپنڈی میں ایک شخص صفدر علی تھا۔وہ عیسائی ہو گیا۔اس نے ایک کتاب لکھی جس کا نام نیاز نامہ تھا۔ایک مولوی صاحب نے اس میں آیت وَامِنُوا بِمَا اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ کی بحث دیکھی اور گھبرائے ہوئے میرے پاس آئے کہ قرآن شریف تو انجیل کو سچا بتاتا ہے۔میں نے کہا ما معکم کے مصداق تو یہودی ہیں نہ کہ عیسائی۔مولوی صاحب کی سمجھ میں بات اچھی طرح نہ آئی تو میں نے ان سے کہا کہ تم اس عیسائی سے جا کر یہ پوچھو کہ وہ انجیل جو حضرت عیسی پر نازل ہوئی ہے کونسی ہے؟ چاہے کسی دوسرے نے ہی جمع کی ہو۔مولوی صاحب گئے اور دریافت کیا تو عیسائی نے جواب دیا کہ ہمارے یہاں عیسی کوئی نہیں۔رب ، ہمارے خداوند۔سو وہ تو خود کتاب نازل کرتے ہیں۔تمیز بخشتے ہیں۔ان پر کوئی کیا کتاب نازل کرتا اور ان کو کوئی کیا تمیز سکھاتا۔مولوی صاحب یہ جواب سن کر میرے پاس آئے تو میں نے ان سے کہا کہ لو تم تو فارغ ہوئے۔اب اگر کوئی یہودی ہو تو اس کو بتاؤ اس کا بھی علاج بتا ئیں۔(۱۵) فروری ۱۹۰۹ء) ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدح کیوں کرتے