مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 277
صَلَبُوهُ پر غور کیا ہے ؟ میں نے اس کو بہت تفصیل سے سمجھایا۔اس نے مجھ سے سن کر کہا کہ آپ کا نام کیا ہے ؟ میں نے کہا نور الدین ہے۔کہا جموں والا؟ میں نے کہا ہاں۔وہ فوراً علیحدہ ہو گیا اور پھر تمام سفر میں مجھ سے بولا ہی نہیں۔(۱۸ / اکتوبر ۱۹۱۲ء بروز جمعه) میں ایک گاڑی پر سوار ایک انگریز پادری کی کوٹھی کے سامنے سے گزرا۔میرے ساتھ ایک گریجویٹ لڑکا بھی سوار تھا۔اس نے مجھ سے کہا کہ آپ اس انگریز سے ضرور ملاقات کریں۔بڑا فلسفی ہے۔اس نے زیادہ مبالغہ کیا تو میں نے کہا کہ مسیحی فلسفی نہیں ہو سکتا۔اس نے کہا کیوں؟ میں نے کہا کہ اچھا تم اول اس کے پاس جا کر کہو کہ مجھے کو تھری ون ( تثلیث) کے مسئلہ کی فلاسفی سمجھادیجئے۔وہ لڑکا بے تکلف فورا اس کے پاس چلا گیا اور اس سے تھری ون ( تثلیث ) کے مسئلہ کی فلاسفی دریافت کی۔پادری نے جواب میں کہا کہ اس مسئلہ کے صحیح ہونے کی دلیل یہی کافی ہے کہ ہم نے اس کو مان لیا اور ایشیائی دماغ اس کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔وہ لڑکا واپس آیا اور کہا کہ اس نے ہماری بڑی تحقیر کی اور کہا کہ اس کا فہم ایشیائی دماغوں سے بالا تر ہے۔میں نے کہا کہ تم پھر جاؤ اور اس سے کہو تمہارا خدا ( مسیح) بھی ایشیائی تھا اور اس کے مرید پولوس - پطرس بھی ایشیائی۔آپ کے قاعدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تینوں اس مسئلہ کو نہیں سمجھے تھے۔جب تمہارا خدا اور اس کے خلیفے بھی نہیں سمجھ سکے تو تم کیسے سمجھ گئے ؟ وہ پادری سن کر ہنس پڑا۔وہ لڑکا سمجھ گیا کہ یہ ہنسنا لاجواب ہونے کی علامت ہے۔مجھ سے آکر کہا کہ وہ تو لا جواب ہو گیا۔انہیں ایام میں کچھ عرصہ کے بعد اس پادری کو عیسائیوں کے ایک مجمع میں لیکچر دینے کا اتفاق ہوا اور اتفاق سے وہ لڑکا بھی اس مجمع میں موجود تھا لیکن پادری صاحب نے اس کو نہیں دیکھا تھا۔وہاں پادری نے اپنے مسیحیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ ان کالجوں کے گریجویٹ لڑکوں سے بچنا چاہئے۔یہ بڑے خطرناک ہوتے ہیں۔ایک تعلیم یافتہ لڑکے نے مجھ سے ایسا سوال کیا کہ میں اس کو کوئی جواب نہیں