مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 20
- ثبوت کے لئے زیادہ دلائل کی ضرورت نہیں کہ فیاض ازل نے ترقیات کی استعدادوں کے عطا کرنے میں کسی بخل یا زیادہ تفریق کو روا نہیں رکھا۔ہاں! ان استعدادوں کے متحرک کرنے اور کام میں لانے کا کام انسان کے سپرد ہوا ہے۔کہ جس قدر چاہے کام لے اور ترقیات کے میدان میں کامیابی کے گھوڑے اڑاتا چلا جائے۔انسان کے سوا دوسرے حیوانات کو عطا شدہ استعدادوں کے متحرک کرنے کا مکلف بھی نہیں بنایا۔ایک کتے کا بچہ اسی طرح پانی میں تیرنا جانتا ہے جس طرح بڑا کتا۔لیکن حضرت انسان اگر اپنی استعداد شناوری کو کام میں نہیں لاتے۔تو کتے کے بچے کے برابر بھی نہیں تیر سکتے۔وَقِسَ عَلَى هَذَا۔غرض کہ تمام ضروریات زندگی کی فراہمی کے لئے ضرورت ہے کسی تحریک کی اور تحریک کے بعد عمل کی جس کا لازمی نتیجہ ورزش ہے۔اور عمل اور ورزش کے ساتھ ہی کامیابی و مقصد دری دیکھی جاتی ہے۔فطری استعدادوں میں تحرک پیدا کرنے کے بعد عمل د ورزش پر مستعد د کر دینے والی چیز در حقیقت بڑی مفید قیمتی اور ضروری چیز ہے۔اور وہ علم تاریخ ہے۔یوں سمجھنا چاہئے کہ انسان اور انسانی قومی کا مجموعہ ایک مشین ہے۔انسانی ترقیات کی استعدادیں اس مشین کے پر زے اور تاریخ اسٹیم ہے۔تاریخ کی اسٹیم سے تمام پُرزوں میں تحریک پیدا ہو جاتی ہے۔اس اعتبار سے اگر تاریخ کو جامع العلوم اور مخزن الفنون بھی کہا جائے تو بے جا نہیں۔اگر تاریخ کوئی عالی مرتبہ چیز نہ ہوتی تو بائبل اور قرآن کریم اور دیگر کتب سماویہ میں تاریخی واقعات کے بیان کی بجائے مسائل ریاضیہ مذکور ہوتے اور بنی اسرائیل ، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت داؤد و سلیمان علیہما السلام کے واقعات کی بجائے علم بیطاری و باغبانی کے قواعد کھول کھول کر سمجھائے جاتے۔تاریخ ہم کو بزرگوں کے حالات سے واقف کرتی اور دل و دماغ میں ایک بابرکت جوش پیدا کر دیتی ہے۔انسانی فطرت میں ایک خاص قسم کی پیاس اور خواہش ہے جو اس کو تماشا گاہوں اور تھیٹروں میں لے جاتی ، ملکوں کی سیاحی ، باغوں کی سیر اور کوہ و صحرا کی سیاحت پر