مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 251 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 251

۲۵۱ (۱۵) اکتوبر ۱۹۱۰ء) میں کسی زمانہ میں ایک بڑے امیر کے ساتھ اس کے باغ میں گیا۔باغ میں سے اس امیر نے اپنے ہاتھ سے بادام توڑ کر مجھے دیئے۔میں نے بادام دانت سے تو ڑ تو ڑ کر کھانے شروع کئے۔اس امیر ( راجہ کشمیر) نے میری طرف بڑی حیرت سے دیکھا۔یا آج یہ حالت ہے کہ چھوہارہ اور انگریزی مٹھائی نہیں کھا سکتا۔(۶ار اکتوبر ۱۹۱۰ء) مجھ سے ایک مرتبہ مہاراجہ کشمیر نے کہا کہ مولوی صاحب! ان اختلافوں کے مٹانے کے واسطے بھی کوئی معیار ہے؟ میں نے کہا کہ آپ ہی کچھ سوچئے کہ کیا معیار ہو سکتا ہے ؟ کہنے لگے مذہب وہ سچا ہے جو پر اچین (پرانا۔قدیم) ہو اور تمہارا تو صرف بارہ سو برس سے ہے۔میں نے کہا۔ہمارے یہاں فَبِهُدُهُمُ اقتده آیا ہے یعنی جو پرانا اور اچھا ہو اس کی پیروی کرو۔سن کر کہا کہ رام چند جی سب سے پرانے ہیں۔ہم ان کو مانتے ہیں۔میں نے کہا رام چند کس کی پرستش کرتے تھے ؟ کہا کہ وشن کی۔میں نے کہا کہ وہ کس کی؟ کہا وہ رڈر کی۔میں نے عرض کیا اور وہ کس کی؟ تو کہا وہ برہما کی۔میں نے کہا برہما کس کی؟ کہا کہ برہما کیوں ایشور کی۔میں نے کہا کہ بس وہی اسلام ہے۔کیا معنی ! وحدہ لا شریک کی پرستش کرتے ہیں۔(۴) فروری ۱۹۱۲ء) میں نے جموں میں بہت درس دیئے ہیں۔میں اپنی جیب سے بہت سے روپے بھی اس کام کے لئے خرچ کرتا تھا۔پھر مجھ کو خد اتعالیٰ نے سمجھایا کہ ہم تیرے لئے دوسری صورت پیدا کر دیں گے۔اب میں کچھ زیادہ روپیہ بھی خرچ نہیں کرتا۔اخلاص ایسی چیز ہے کہ یا تو میں ہزاروں روپے خرچ کر کے بعض نوجوانوں کو بنانا چاہتا تھا یا اب میں ایسے نوجوانوں کو جانتا ہوں جو مجھ پر جان بھی دینے کو تیار ہیں۔اور بالکل میرے جاں گر از عاشق ہیں۔(کاش میں