مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 250
۲۵۰ (۱۰ر اگست ۱۹۰۸ء) مولوی عبد الکریم صاحب جب پہلے پہل مجھ سے ملے تو ان کی بہت چھوٹی عمر تھی۔پہلے دبلے اور بہت صاف دل تھے۔میں نے ان سے جموں میں کہا کہ تم میرے پاس آیا کرو۔مولوی عبد الکریم چار زبانیں جانتے تھے۔انگریزی - عربی - فارسی-اردو- میں نے تو اس وقت تک اپنی جماعت میں کوئی شخص دیکھا نہیں جو ان کی طرح چار زبانیں اچھی طرح جانتا ہو۔(۱۳) اکتوبر ۱۹۱۲ءد ردرس کلام اللہ ) میں کشمیر میں تھا۔ایک روز میں نے خود صبح کی اذان کہی۔میں جوان تھا۔بڑے مزے میں خوب زور سے اذان کہی۔میں جس محلہ میں رہتا تھا۔وہاں سب ہندو یا سکھ ہی رہتے تھے۔صرف ایک مسلمان تھے۔وہ بھی بیچارے شراب کے نشے میں مخمور رہتے تھے۔راجہ میری اذان سن رہا تھا۔دن میں مجھ سے کہا کہ آج صبح اذان کس نے دی؟ میں نے کہا کہ میں نے دی تھی۔کہا کہ آپ نے حی علی الصلوۃ کہا اور ایک دفعہ نہیں دو دفعہ کہا یعنی نماز کے لئے آؤ تو کوئی اس آواز پر آیا نہیں۔چونکہ اذان کے الفاظ بڑے ہی پر تاثیر ہیں۔اس لئے مجھے کو بڑا ہی ڈر معلوم ہوا کہ یہ لوگ حی علی الصلوة کی تعمیل نہیں کرتے۔کہیں سب کے سب غارت نہ ہو جائیں۔میں چونکہ اس شہر کا مالک ہوں اس لئے میں بڑا ہی خوف زدہ بیٹھا رہا۔مطلب اس کہنے سے یہ تھا کہ آئندہ اذان نہ کہیں مگر ایک لطیف پیرایہ میں کہا۔(۱۳) اکتوبر ۱۹۰۸ء) کشمیر میں جذامیوں کی تحقیقات کے لئے ایک کمیشن آئی۔وہاں ایک سو چار جذامیوں میں نانوے مسلمان تھے۔