مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 242
السلام بھی حنفی مذہب رکھتے تھے۔كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۔اس کتاب کی قیمت پچیس ہزار روپیہ رکھی تھی۔مجھ سے کہا کہ تم ایک کتاب لے لو۔کچھ اب دے دو چاہے ایک پیسہ۔باقی قیامت کو دے دینا۔میں نے کہا کہ میں تو قیامت کا قائل ہوں۔(۲۲) فروری ۱۹۱۲ء) لکھنو میں ایک بڑا ز کی نوجوان تھا۔باتوں باتوں میں میرا اس کا جھگڑا ہو گیا۔ہمارے استاد نے کہا کہ اچھا تم دونوں میں سے جو والدیتِ ضَبْحًا کے معنی کرے وہ جیت گیا۔(۴) جنوری ۱۹۱۲ ء بعد عصر میرے ایک بنارس کے رہنے والے محسن مولوی عبدالرشید تھے۔انہوں نے میرے ساتھ بڑی نیکیاں کی ہیں۔وہ مراد آباد میں رہتے تھے۔ایک مرتبہ ایک مہمان عشاء کے بعد آگیا۔ان بنارسی بزرگ کے بیوی بچے نہ تھے۔مسجد کے ایک حجرہ میں رہتے تھے۔حیران ہوئے کہ اب اس مہمان کا کیا بندوبست کروں اور کس سے کہوں۔انہوں نے مہمان سے کہا کہ آپ کھانا پکنے تک آرام کریں۔وہ مہمان لیٹ گیا اور سو گیا۔انہوں نے وضو کر کے قبلہ رخ بیٹھ کر یہ دعا پڑھنی شروع کی اُفَوّضُ أَمْرِ إِلَى اللهِ اِنَّ اللهَ بَصِير بِالْعِبَادِ - جب اتنی دیر گزری کہ جتنی دیر میں کھانا پک سکتا ہے اور یہ برابر دعا پڑھنے میں مصروف تھے کہ ایک آدمی نے باہر سے آواز دی کہ حضرت میرا ہاتھ جلتا ہے جلدی آؤ۔یہ اٹھے ایک شخص تانے کی رکابی میں گرم گرم پلاؤ لئے ہوئے آیا۔انہوں نے لے لیا اور مہمان کو اٹھا کر کھلایا۔وہ حجرہ اب تک میری آنکھوں کے سامنے ہے۔اس رکابی کا کوئی مالک نہ نکلا۔وہ تانبے کی رکابی رکھی رہتی تھی اور وہ کہا کرتے تھے جس کی رکابی ہونے جائے لیکن کوئی اس کا مالک پیدا نہ ہوا۔