مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 235 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 235

۲۳۵ ایک اور رویا میں نے پنڈ دادنخان میں دیکھا۔وہاں ایک سررشتہ دار تھا۔جو اپنی فضولیوں میں بڑا مشہور تھا۔میں نے اس کو دیکھا کہ وہ بہشت میں ایک بڑی اونچی اٹاری پر ہے۔جب میں نے اس کو اور اس نے مجھ کو دیکھا تو میں نے اس سے کہا کہ تم تو بڑے سیہ کار تھے تم کو بہشت میں اور پھر غرفات میں کیونکر موقع ملا۔اس نے جواب میں کہا کہ ”میری غریب الوطنی پر جناب الہی نے رحم فرمایا " میں نے بیداری کے بعد اس کی بہت جستجو کی مگر کہیں پتہ نہ لگا۔یہی معلوم ہوا کہ عرصہ سے مفقود الخبر ہے۔دو برس کے بعد ایک میری رشتہ دار نے مجھ کو بتایا کہ فلاں آدمی بمبئی کے قریب ایک مقام گلیانی میں مرگیا ہے وہ مکہ معظمہ کو پیادہ پا جاتا تھا۔(۱۲ر جون ۱۹۱۲ء) میرا ایک بھتیجا تھا۔اس کا نام شہسوار تھا۔میں اس کو ہمراہ لے کر جموں کے ارادہ سے گھر سے نکلا۔میرے پاس ایک پیسہ بھی نہ تھا۔میں نے ارادہ کیا کہ بیوی سے کچھ روپیہ قرض لے لوں لیکن طبیعت نے مضائقہ کیا اور ویسے ہی چل دیا۔ہم دونوں گھوڑوں پر سوار تھے۔شہر سے باہر ایک آدمی نے مجھے ایک روپیہ اور کچھ بتاشے دیئے۔ایک اور آدمی نے ایک اٹھنی دی۔تین چار کوس چل کر سڑک کے کنارے آوان نام ایک گاؤں کے قریب پہنچے تو لڑ کے نے مجھ سے کہا کہ بتاشے ہمارے پاس ہیں۔گرمی ہے۔اگر آپ فرما ئیں تو میں یہاں کنوئیں پر جاکر شربت پی لوں۔چنانچہ وہ لڑکا تھوڑی دور جا کر پھر واپس ہوا اور مجھ سے کہا کہ آپ بھی آجائیں۔ہم دونوں اس گاؤں میں پہنچے۔لڑکے نے لوٹا کھولنا چاہا۔لیکن کنوئیں والے نے کہا کہ ذرا آپ ٹھہر جائیں۔خیر ہم بیٹھ گئے۔میں نے اس سے پوچھا کہ ٹھرانے کی وجہ کیا ہے؟ اس نے کہا کہ گاؤں کے نمبردار نے دور سے آپ کو دیکھا تھا۔وہ دودھ لینے کے واسطے گیا ہے۔تھوڑے ہی وقفہ میں نمبردار آیا اور اس نے ایک روپیہ مجھ کو نذر دیا۔اس کا بیٹا کبھی میرے پاس علاج کے واسطے آیا تھا اور اچھا ہو گیا تھا۔خیر ہم نے دودھ پیا۔جب اٹھنے لگے تو