مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 217 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 217

۲۱۷ (۳) جون ۱۹۰۹ء) میرے ایک پیر ہوتے تھے۔عبد الغنی ان کا نام تھا۔دتی میں رہتے تھے۔مرزا کامران ان کے ایک مرید تھے۔مرزا کامران نے کہا کہ شاہ صاحب قلعہ میں رات کے وقت شہزادیاں چوڑھوں کے پاس اور چوڑھیاں شاہزادوں کے پاس ہوتی ہیں۔شاہ صاحب نے مرزا کامران کو حکم دیا کہ تم قلعہ سے چلے آؤ۔ایسی جگہ ہرگز نہ رہو۔عصر کے وقت مرزا کامران قلعہ سے باہر چلے آئے۔شام کے وقت شاہ صاحب کو الہام ہوا کہ تم نے تو قلعہ والوں کو تباہ کر دیا۔جب تک مرزا کامران قلعہ میں تھا اس وقت تک ہم نے عذاب کو روک دیا تھا۔اب چونکہ مرزا کامران چلا آیا۔لہذا اہم قلعہ پر عذاب بھیجتے ہیں۔شاہ صاحب فرماتے تھے کہ ہم کو پھر تو کچھ افسوس ہی ہوا۔قلعہ اور دتی شہر فتح ہوا۔شاہ صاحب کو وہاں سے مع اہل وعیال بھاگنا پڑا۔پھر بہزار دقت کراچی اور وہاں سے مکہ معظمہ پہنچے۔مولوی اسماعیل شہید دہلوی کے بیٹے محمد عمر صاحب ایک بزرگ دہلی میں رہتے تھے۔مولوی رحمت اللہ صاحب سے میں نے سنا ہے وہ فرماتے تھے کہ ایک مرتبہ محمد عمر صاحب جب ہمارے ساتھ دہلی میں جارہے تھے۔بادشاہ کی سواری کے ڈنکے کی آواز آئی۔یکانت ان کی رنگت زرد ہو گئی۔پیشاب کرنے بیٹھ گئے۔بادشاہ کی سواری آئی اور گزر گئی۔بعدہ وہ اٹھے تو چہرہ خوش تھا۔دریافت کیا کہ حضرت آپ کیوں اس قدر گھبرا گئے تھے اور اب کیوں مطمئن ہیں ؟ کہا۔میں نے بادشاہ کی سواری سامنے سے آتی ہوئی محسوس کر کے اس بات کا خوف کیا کہ کہیں میرے ایمان کو نہ لے جائے۔نواب وزیر الدولہ نواب ٹونک انہیں محمد عمر صاحب کے بہت معتقد تھے۔ایک مرتبہ ان کے مکان پر ملاقات کے لئے آئے۔محمد عمر صاحب نے سنا کہ وزیر الدولہ آیا ہے تو دیوار کود کر پچھواڑے کی طرف سے مکان چھوڑ کر چل دیئے کہ امیروں کی ملاقات سے دل سیاہ ہو تا اور قلب پر غفلت طاری ہوتی ہے۔