مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 148
۱۴۸ ان کا خیمہ ہے۔آپ ذرا تکلیف کر کے خود ہی ان سے عذر کرلیں۔جب میں گیا تو وہ حسب عادت بڑی ہی مہربانی سے پیش آئے اور فرمایا کہ میرا ایک نواسہ محمد عمر نام بیمار ہے آپ اس کو دیکھیں۔میں نے کہا کہ میں کل آکر اس کو دیکھوں گا۔انہوں نے فرمایا کہ آپ آج رات کو یہیں رہیں۔کل ہم آپ کے مکان پر چلیں گے۔چنانچہ میرے لئے علیحدہ ایک آرام دہ خیمہ کھڑا کر دیا اور اگلے روز چونکہ جمعہ تھا انہوں نے یہ سمجھ کر کہ مکان پر جانے سے تو اس کو ہم نے روک لیا ہے راتوں رات ہی میرے لئے کپڑے تیار کرا دیئے جو میں نے اگلے روز پہن لئے۔جمعہ کا وقت آیا تو ہم دونوں جامع مسجد گئے اور نماز پڑھی۔جس طرف حضرت مظہر جان جاناں رحمۃ اللہ ہمارے شیخ المشائخ کی قبر ہے۔اس طرف کی سیڑھیوں سے وہ اترے وہیں ان کی بگھیاں کھڑی تھیں۔مجھ سے کہا کہ آپ کا مکان کہاں ہے۔ادھر چلیں۔میں حیران۔مجھ کو سامنے ایک تنگ گلی نظر آئی۔میں نے کہا۔ادھر ہے۔فرمایا اس طرف تو ہماری بگھی نہیں جاسکتی۔اپنے دو آدمی میرے ساتھ کر دیئے اور کہا کہ اسباب لے آؤ۔میں ان آدمیوں کو ساتھ لئے ہوئے اس گلی میں پہنچا۔بلا کسی ارادہ کے چلا جاتا تھا کہ ایک مکان نظر پڑا کہ اس مکان میں بڑی کثرت سے لوگ جاتے ہیں اور آتے بھی ہیں۔اس مکان میں مخلوق کی اس قدر آمد و رفت دیکھ کر میں بھی بلا تکلف اس مکان میں گھس گیا۔جب ہم لوگ اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ نیچے ایک بڑا دالان ہے اور اوپر زمینہ کے راستے بالا خانہ پر لوگ جا رہے ہیں۔میں نے ان سپاہیوں کو تو اس دالان میں بٹھایا اور بلا تکلف سیڑھیوں پر چڑھ گیا۔اس وقت میرے دل میں ذرا وسوسہ نہ آیا کہ یہ کس کا اور کیسا مکان ہے گویا قدرت کا ایک ہاتھ تھا جو مجھ کو پکڑ کر اوپر لے گیا۔وہاں کثرت سے آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔میں بھی ان کی طرف متوجہ ہوا۔میں نے ان لوگوں میں سے صرف عبید اللہ صاحب ساکن بنت مصنف تحفة الهند کو پہچانا مجھ کو دیکھتے ہی وہ بڑے خوش ہو کر بولے کہ آپ کا آنا تو میرے لئے بڑا ہی مبارک ہوا ہے۔میرے ساتھ کچھ نوجوان نو مسلم ہیں۔میں اس فکر میں تھا کہ ان کو کہاں رکھوں۔اب آپ جیسا انسان اور کون مل سکتا ہے۔آپ ان کو اپنے یہاں لے