مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 124 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 124

فلاں کتاب نے جس کے تم بھی قائل ہو، اس کا جواب دیا ہے۔کہنے لگا ہاں۔پھر میں نے کہا اور پڑھو تو خاموش ہی ہو گیا۔علماء کو یہ و ہم رہتا ہے۔ایسا نہ ہو کہ ہتک ہو۔اس لئے اس نے یی غنیمت سمجھا کہ چپ رہے۔اس کے بعد پھر بھیرہ میں ایک شخص نے نسخ کا مسئلہ پوچھا اور میں نے اپنے فہم کے مناسب جواب دیا اور کہا کہ پانچ کے متعلق میری تحقیق نہیں۔تو اس دوست نے کہا کہ آپ ان پانچ پر نظر ڈال لیں۔میں نے تفسیر کبیر رازی میں یہ تفصیل ان مقامات کو دیکھا تو تین مقام خوب میری سمجھ میں آگئے اور دو سمجھ میں نہ آئے۔تفسیر کبیر میں اتنا تو لکھا ہے کہ شدت اور خفت کا فرق ہو گیا ہے۔پھر میں ایک مرتبہ ریل میں بیٹھا ہوا ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔جیسے بجلی کو ند جاتی ہے۔میں نے پڑھا کہ فلاں آیت منسوخ نہیں ہے۔میں بڑا خوش ہوا کہ اب تو چار مل گئیں۔صرف ایک ہی رہ گئی۔بڑی بڑی کتابوں کا تو کیا میں چھٹ بھیتوں کی بھی پڑھ لیتا ہوں۔اس طرح پر ایک کتاب میں وہ پانچویں بھی مل گئی اور خدا کے فضل سے مسئلہ ناسخ و منسوخ حل ہو گیا۔مدینہ طیبہ کی تعجب انگیز باتوں میں سے ہے کہ ایک دن میں نہر پر گیا جو بہت نیچے بہتی تھی اور سیڑھیوں سے نیچے اتر کر جانا پڑتا تھا۔میں نے دیکھا کہ نیچے ایک آدمی تمام کپڑے اتارے ہوئے بالکل ننگا، مادر زاد کسی اوپر کھڑے ہوئے آدمی سے بہت بے تکلفی کے ساتھ باتیں کر رہا تھا اور وہاں بہت سے آدمی موجود تھے۔مجھ سے رہا نہ گیا۔میں نے اس سے کہا کہ تم اس طرح ننگے ہو کر حیا نہیں کرتے ؟ اس نے بہت بے تکلفی سے جواب دیا۔ان الله يرى وراء الستر جس سے مجھ کو ثابت ہوا کہ مسلمانوں کی عملی حالت اور ان کے اخلاق فاضلہ میں بہت نقصان آگیا ہے۔وہاں کے کسی آدمی نے اس کو منع بھی نہ کیا۔وہاں بیرونی شہر میں زیدی شیعہ بھی بہت رہتے ہیں اور ان میں متعہ کا رواج ہے۔ایک ہمارے دوست تھے۔انہوں نے وہاں ایک عظیم الشان سرائے لوگوں کے آرام کے لئے بنانی تجویز کی اور بہت سا روپیہ اس پر خرچ کیا۔وہاں کے قاضی صاحب نے سو پونڈ ان سے قرض مانگے۔انہوں نے ہمارے پیرو مرشد شاہ عبد الغنی صاحب سے مشورہ لیا۔انہوں نے فرمایا کہ