مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 123 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 123

۱۲۳ تھا کہ پھر بھی وہ کتاب مجھ کو پسند نہ آئی۔اب مجھ کو فوز الکبیر کا خیال آیا کہ اس کو بھی تو پڑھ کر دیکھیں۔اس کو پڑھا تو اس کے مصنف نے لکھا تھا کہ خدا تعالیٰ نے جو علم مجھے دیا ہے اس میں پانچ آیتیں منسوخ ہیں۔یہ پڑھ کر تو بہت ہی خوشی ہوئی۔میں نے جب ان پانچ پر غور کی تو خدا تعالیٰ نے مجھے سمجھ دی کہ یہ تاریخ و منسوخ کا جھگڑا ہی بے بنیاد ہے۔کوئی چھ سو بتا تا ہے کوئی انیس یا اکیس اور کوئی پانچ۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ تو صرف فہم کی بات ہے۔میں نے خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ قطعی فیصلہ کر لیا کہ ناسخ و منسوخ کا معاملہ صرف بندوں کے فہم پر ہے۔ان پانچ نے سب پر پانی پھیر دیا۔یہ فہم جب مجھے دیا گیا تو اس کے بعد ایک زمانہ میں میں لاہور کے اسٹیشن پر شام کو اترا۔بعض اسباب ایسے تھے کہ چینیانوالی مسجد میں گیا۔شام کی نماز کے لئے وضو کر رہا تھا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی کے بھائی میاں علی محمد نے مجھ سے کہا کہ جب عمل قرآن مجید و حدیث پر ہوتا ہے تو ناسخ و منسوخ کیا بات ہے۔میں نے کہا کچھ نہیں۔وہ پڑھے ہوئے نہیں تھے۔گو میر ناصر کے استاد تھے انہوں نے اپنے بھائی سے ذکر کیا ہو گا۔یہ ان دنوں جوان تھے اور بڑا جوش تھا۔میں نماز میں تھا۔اور وہ جوش سے ادھر ادھر شملتے رہے۔جب میں نماز سے فارغ ہوا تو کہا ادھر آؤ۔تم نے میرے بھائی کو کہہ دیا کہ قرآن میں ناسخ و منسوخ نہیں۔میں نے کہا ہاں نہیں ہے۔تب بڑے جوشن سے کہا کہ تم نے ابو مسلم اصفہانی کی کتاب پڑھی ہے۔وہ احمق بھی قائل نہ تھا۔میں نے پھر کہا پھر تو ہم دو ہو گئے۔پھر اس نے کہا کہ سید احمد کو جانتے ہو۔مراد آباد میں صدر الصدور ہے۔میں نے جواب دیا کہ میں رامپور لکھنو اور بھوپال کے عالموں کو جانتا ہوں ان کو نہیں جانتا۔اس پر کہا کہ وہ بھی قائل نہیں۔تب میں نے کہا کہ بہت اچھا۔پھر ہم اب تین ہو گئے۔کہنے لگا کہ یہ سب بدعتی ہیں۔امام شوکانی نے لکھا ہے کہ جو نخ کا قائل نہیں وہ بدعتی ہے۔میں نے کہا تم دو ہو گئے۔میں ناسخ و منسوخ کا ایک آسان فیصلہ آپ کو بتا تا ہوں۔تم کوئی آیت پڑھ دو جو منسوخ ہو۔اس کے ساتھ ہی میرے دل میں خیال آیا کہ اگر یہ ان پانچ آیتوں میں سے پڑھ دے تو کیا جواب دوں۔خدا تعالیٰ ہی سمجھائے تو بات بنے۔اس نے ایک آیت پڑھی۔میں نے کہا کہ