مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 4 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 4

لیا" اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت الحاج الحکیم مولوی نور الدین رضی اللہ عنہ -: سے متعلق فرماتے ہیں :- انہوں نے ایسے وقت میں بلا تردد مجھے قبول کیا کہ جب ہر طرف سے تکفیر کی صدائیں بلند ہونے کو تھیں اور بہتیروں نے باوجود بیعت کے عہد بیعت فسخ کر دیا تھا اور بہتیرے ست اور متذبذب ہو گئے تھے۔تب سب سے پہلے مولوی صاحب مدروح کا ہی خط اس عاجز کے اس دعوئی کی تصدیق میں کہ میں ہی مسیح موعود ہوں قادیان میں میرے پاس پہنچا جس میں یہ فقرات درج ت امَنَّا وَ صَدَّقْنَا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِرِينَ - (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۲۱) اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق کے حق میں فرمایا وَمَا نَفَعَنِيْ مَالُ اَحَدٍ قَطَّ مَا نَفَعَنِيْ مَالُ أَبِي بَكْرٍ" (ردی) یعنی مجھے کسی شخص کے مال سے کبھی ایسا نفع نہیں پہنچا جیسا کہ ابو بکر کے مال سے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت مولوی نورالدین رضی اللہ عنہ کے محاسن کا ذکر کرتے ہوئے اپنی کتاب ”ازالہ اوہام " میں فرماتے ہیں۔ان کے مال سے جس قدر مجھے مدد پہنچی ہے۔میں کوئی ایسی نظیر نہیں دیکھتا۔جو اس کے مقابل پر میں بیان کر سکوں" اور " آئینہ کمالات اسلام میں فرماتے ہیں : -: " مجھ کو کسی شخص کے مال نے اس قدر نفع نہیں پہنچایا جس قدر کہ اس کے مال نے جو کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے دیا اور کئی سال سے دے رہا ہے"۔( ترجمه از عربی عبارت روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۸۲) صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تمام صحابہ نے حضرت ابو بکر