حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ

by Other Authors

Page 60 of 100

حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ — Page 60

سوانح میاں محمد موسیٰ صحابی حضرت مسیح موعود جماعتی خدمات کا تذکرہ بہشتی مقبرہ قادیان کے لئے منصوبہ بندی حضرت مسیح موعود نے رسالہ الوصیت 24 دسمبر 1905ء کو شائع کیا۔اس رسالہ میں حضور نے الہی منشاء کے ماتحت اشاعت اسلام، تبلیغ احکام اور قرآن کے مقاصد کے لئے ایک دائمی نظام وصیت کا اعلان فرمایا جو آئندہ دنیا کے مختلف اقتصادی نظاموں کیلئے نظام نو ثابت ہو گا۔اس رسالہ میں حضور نے قدرت ثانیہ کی خوشخبری دی۔حضور نے الہی منشاء کے تحت ایسے وصیت کرنے والوں کے لئے ایک بہشتی مقبرہ 79 بھی تجویز فرمایا اور اس میں دفن ہونے والوں کے قواعد خود درج فرمائے۔حضرت مسیح موعود نے 1906ء میں ایک قبرستان ” بہشتی مقبرہ “ بنانے کی تجویز دی اور اس کے لئے اپنی ذاتی زمین کا ایک ٹکڑا عطا کیا۔حضرت ڈپٹی میاں محمد شریف صاحب بیان کرتے ہیں: "رسالہ الوصیت شائع ہونے کے بعد 1906ء میں ایک دن لاہور سے آئے ہوئے میاں محمد موسیٰ صاحب سے حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ بہشتی مقبرہ کا ایک نقشہ تیار کر دیں۔جس میں قبروں اور راستوں کے نشانات دکھائے جائیں۔جس وقت میاں محمد موسیٰ صاحب نے وہ نقشہ تیار کر کے حضور کی خدمت میں پیش کیا۔اس وقت میں بھی حاضر تھا۔حضور نے وہ نقشہ پسند فرمایا۔حضرت میاں صاحب نے نقشہ میں ایک قبر پر انگلی رکھ کر عرض کیا کہ حضور یہ قبر میرے لئے مخصوص کر دی جائے۔“ حضور کا جواب یہ تھا: 79 رساله الوصیت، مرزا غلام احمد قادیانی، مسیح موعود و مہدی (1905)، اسلام انٹر نیشنل پبلیکیشن لمیٹد، صفحہ ۷