لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 68
آپ دینی و دنیوی علوم کے بھی ماہر تھے۔انگلستان کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہوئی تھی۔آپ ہمیشہ جماعت کو بھی تعلیم کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے رہتے تھے۔آپ نے علم کے میدان میں مسابقت کی روح پیدا کرنے کے لئے نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والوں کے لئے گولڈ میڈل اور دیگر اعزازات کا سلسلہ بھی شروع فرمایا۔آپ کے دور مبارک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام کہ تیرے فرقہ کے لوگ علم و معرفت میں کمال حاصل کریں گے“ اس وقت بڑی شان کے ساتھ پورا ہوا جب احمدی پروفیسر ڈاکٹر عبد السلام صاحب کو نوبل پرائز ملا۔حضور رحمہ اللہ لجنہ اماء اللہ اور ناصرات کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دیتے اور انہیں فعال بنانے کے لئے ان کی سرپرستی فرماتے تھے۔اس لئے آپ نے لجنہ اماء اللہ کو خاص طور پر قرآن کریم کا علم حاصل کرنے کی نصیحت کی اور فرمایا: لجنہ اماءاللہ کے سپر د جو کام ہیں۔۔۔اس میں پہلا اور بنیادی کام یہ ہے کہ ہر عورت قرآن کریم اور اس کی سچی اور حقیقی تفسیر کا علم حاصل کرے۔“ 68