لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 56
كنتم خير امة اخرجت للناس کی ایسی شیریں تفسیر سنی کہ جس کی برکت سے ساری جماعت کے اندر بنی نوع انسان کی ہمدردی اور اس کی خدمت کا جذبہ ایک نئی شان سے ابھرا اور ہر احمدی کے دل میں اس کی ایسی جوت جاگی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد بیعت کی اس شرط کا سچا اور حقیقی پاسدار بن گیا کہ ”عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض اللہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خداداد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچائے گا۔“ چنانچہ آپ کے دور میں جماعت انسانی ہمدردی کے جذبہ سے سرشار ہو کر ہمیشہ بلا تفریق رنگ و نسل انسانیت کی خدمت اور اس کی فلاح و بہبود کے کاموں میں مصروف رہی۔اگر چہ خلافت ثالثہ کا دور جماعت احمدیہ کے لئے بڑی ابتلاؤں، آزمائشوں اور قربانیوں کا دور تھا اور اس دور میں جہاں جماعت احمدیہ کے افراد نے صحابہ کی طرح خدا تعالیٰ کی خاطر جانی اور مالی قربانیوں کے بے مثال نظارے پیش کئے وہاں اللہ تعالیٰ نے بھی خلیفہ وقت کی بھر پور تائید و نصرت فرمائی اور آپ کے عہد خلافت میں جماعت کو خوب رعب و دبدبہ اور تمکنت سے نوازا۔آپ نے نامساعد حالات کے باوجو د جماعت احمدیہ کو بڑی عظمت و شان کے ساتھ ایک ہاتھ پر قائم رکھا اور انہیں ”ہمیشہ مسکراتے رہو “ کی نصیحت فرماتے رہے۔56