لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 296
فرماتے تھے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور مسلمان عورت پر فرض ہے۔اسی طرح ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا کہ جو شخص علم حاصل کرنے کی غرض سے کسی رستہ کا سفر اختیار کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے لئے اس علم کے علاوہ جنت کا رستہ بھی کھول دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” مر شد اور مرید کے تعلقات استاد اور شاگرد کی مثال سے سمجھ لینے چاہئیں جیسے شاگر د استاد سے فائدہ اٹھاتا ہے اسی طرح مرید اپنے مرشد سے لیکن شاگر داگر استاد سے تعلق تو رکھے مگر اپنی تعلیم میں قدم آگے نہ بڑھائے تو فائدہ نہیں اٹھا سکتا یہی حال مرید کا ہے۔پس اس سلسلہ میں تعلق پیدا کر کے اپنی معرفت اور علم کو بڑھانا چاہئے۔طالب حق کو ایک مقام پر پہنچ کر ہر گز نہیں ٹھہر نا چاہئے ورنہ شیطان لعین اور طرف لگادے گا اور جیسے بند پانی میں عفونت پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح اگر مومن اپنی ترقیات کے لئے سعی نہ کرے تو وہ گر جاتا ہے۔پس سعادت مند کا کام ہے کہ وہ طلب دین میں لگار ہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی انسان کامل دنیا میں نہیں گزرا لیکن آپ کو بھی رَبِّ زِدْنِي عِلما کی دعا کی تعلیم ہوئی تھی پھر اور کون ہے جو اپنی معرفت اور علم پر کامل بھروسہ کر کے ٹھہر جاوے اور آئندہ ترقی کی 296