لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 289 of 336

لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 289

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے بارے میں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کا یہ سنہری حروف میں لکھا جانے والا بیان ہے کہ كَانَ خُلُقُهُ الْقُرآن۔کہ آپ کی سیرت اور آپ کے معمولات کا پتہ کرنا ہے تو قرآن کریم آپ کی سیرت کی تفصیل ہے اسے پڑھو۔ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی کماحقہ بجا آوری فرماتے تھے۔آپ کا ذوق عبادت ایسا تھا کہ لوگ کہتے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ على رَبِّهِ۔یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے رب پر عاشق ہو گیا ہے۔آپ نے نماز کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا ہے۔آپ ہر وقت دعاؤں میں مشغول رہتے۔آپ کو اللہ تعالیٰ پر کامل تو کل تھا۔آپ تمام نیک خصائل میں بلند مقام پر فائز تھے۔آپ نے عدل و انصاف کے اعلیٰ معیار قائم فرمائے۔آپ صادق وامین ، قانع، صابر و شاکر ، شجاع اور بنی نوع انسان کے حقیقی ہمدرد اور خیر خواہ تھے۔آپ محبت کے سفیر تھے۔آپ نے سب دنیا کو امن ، صلح جوئی اور رواداری کی تعلیم دی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: " حدیبیہ کے قصہ کو خدا تعالیٰ نے فتح مبین کے نام سے موسوم کیا ہے اور فرمایا ہے۔اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحاً مبيناً۔وہ فتح اکثر صحابہ پر بھی مخفی تھی بلکہ بعض منافقین کے ارتداد کا موجب ہوئی۔مگر دراصل وہ فتح مبین تھی۔" 289