لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 285
سے آپ نے جو تقریر فرمائی اس میں پر دے کا بھی ذکر فرمایا۔اس ضمن میں ہماری والدہ کے متعلق ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہماری ایک باجی جان ہیں ، ان کا شروع سے ہی پردہ میں سختی کی طرف رجحان رہا ہے کیونکہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی تربیت میں جو پہلی نسل ہے ان میں سے وہ ہیں۔ان کے متعلق ہماری بچیوں کا خیال ہے کہ اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انہیں کچھ نہ کہو۔۔۔میں تو ان اگلے وقتوں کو جانتا ہوں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے وقت ہیں۔اس لئے ان کو اگر اگلے وقتوں کا کہہ کر کسی نے کچھ کہنا ہے تو اس کی مرضی ہے وہ جانے اور خدا کا معاملہ جانے ، لیکن یہ جو میری بہن ہیں واقعتنا تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے اس بات پر سختی کرتی ہیں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا ایک عظیم الشان مقصد کل عالم کو وحدت کی لڑی میں پرونا تھا۔اللہ تعالیٰ کا ہماری جماعت پر کتنا عظیم الشان احسان ہے کہ اس نے ہمیں خلافتِ احمدیہ سے وابستہ فرمایا ہے جس کی بدولت سب دنیا کے احمدی ایک ہاتھ پر جمع ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں وہ ذرائع بھی مہیا فرمائے ہیں جو عالمگیر وحدت کے قیام کے لئے ضروری ہیں۔ان جدید ذرائع میں ایم ٹی اے کی خاص اہمیت ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایم ٹی اے جماعت کو خلیفہ وقت سے ہر وقت 285