لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 249
ہوں۔بعض عورتیں معمولی باتوں کا بہانہ بنا کر نمازیں چھوڑ دیتی ہیں۔مثلاً چھوٹے بچوں والی کپڑوں کی ناپاکی وغیرہ کا عذر کر دیتی ہیں۔ایسا کرنا درست نہیں ہے۔ایک خاتون کہتی ہیں کہ وہ ایک دفعہ حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کی خدمت میں اپنا نو مولود بچہ لے کر حاضر ہوئیں۔وہاں اور خواتین بھی موجود تھیں۔حضرت اماں جان خود بھی نمازوں کی بڑی پابند تھیں اور اپنے ارد گرد دوسروں کو بھی اس کی نصیحت کرتی تھیں۔چنانچہ نماز کے وقت آپ نماز پڑھنے تشریف لے گئیں۔واپس آکر ان سے نماز کا پوچھا اور جواب میں ان سے بچے کے پاخانہ وغیرہ کا عذر سنا تو آپ نے فرمایا کہ بچے خدا کا انعام ہوتے ہیں۔ان کے بہانے نماز ضائع نہ کیا کریں۔اس طرح نماز چھوڑنے سے وہ بڑا ہو کر تمہارے لئے زحمت بن جائے گا۔لڑکا ہے تو بری صحبت میں پڑ جائے گا اور لڑکی ہے تو معاشرہ سے متاثر ہو کر گھر سے بغاوت کرنے والی بن جائے گی۔یہ بڑی پر حکمت اور عمدہ نصیحت ہے آپ بھی اسے ہمیشہ اپنے مد نظر رکھیں۔اگر آپ کی اولاد کو نمازوں کی عادت پڑ گئی تو یہ برائیوں میں نہیں پڑیں گے۔نماز عبادت کا مغز اور بہترین وظیفہ ہے۔ایسے لوگ جو خاص دعا اور خاص وظیفے پوچھتے ہیں انہیں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نماز کی ہی نصیحت فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں: 249