لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 237
حضور صلی الم نے ماں کے قدموں تلے جنت کی جو خوشخبری دی ہے اس جنت کی راہ پر اپنے نیک نمونہ سے اپنی اولاد کو بھی چلائیں۔اور بلاشبہ نیکی کے اس سفر کا پہلا قدم نماز ہے۔اپنی نمازوں کو بروقت اور سنوار کر ادا کریں اور اس میں ہر گز غافل نہ ہوں۔بعض عور تیں معمولی باتوں کا بہانہ بنا کر نمازیں چھوڑ دیتی ہیں۔مثلاً چھوٹے بچوں والی کپڑوں کی ناپاکی وغیرہ کا عذر کر دیتی ہیں۔ایسا کرنا درست نہیں ہے۔ایک خاتون کہتی ہیں کہ وہ ایک دفعہ حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کی خدمت میں اپنا نو مولود بچہ لے کر حاضر ہوئیں۔وہاں اور خواتین بھی موجود تھیں۔حضرت اماں جان خود بھی نمازوں کی بڑی پابند تھیں اور اپنے ارد گرد دوسروں کو بھی اس کی نصیحت کرتی تھیں۔چنانچہ نماز کے وقت آپ نماز پڑھنے تشریف لے گئیں۔واپس آکر ان سے نماز کا پوچھا اور جواب میں ان سے بچے کے پاخانہ وغیرہ کا عذر سنا تو آپ نے فرمایا کہ بچے خدا کا انعام ہوتے ہیں۔ان کے بہانے نماز ضائع نہ کیا کریں۔اس طرح نماز چھوڑنے سے وہ بڑا ہو کر تمہارے لئے زحمت بن جائے گا۔لڑکا ہے تو بری صحبت میں پڑ جائے گا اور لڑکی ہے تو معاشرہ سے متاثر ہو کر گھر سے بغاوت کرنے والی بن جائے گی۔یہ بڑی پر حکمت اور عمدہ نصیحت ہے آپ بھی اسے ہمیشہ اپنے مد نظر رکھیں۔اگر آپ کی اولاد کو نمازوں کی عادت پڑ گئی تو یہ 237