لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 200
وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطَانًا نَّصِيرًا أنا فَتَحْنَا لَكَ فَتْها حامين م اللهُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ الله وَقَدْ نَصَرَكُمُ ال امام جماعت احمدید بسم الله الرحمة العالية نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمَ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ المَوْعُوْدُ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر لندن 11۔03۔2017 پیاری ممبرات لجنہ اماء اللہ ناروے السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کانته مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ آپ کو اپنا سالانہ اجتماع منعقد کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔اللہ تعالیٰ اس کا انعقاد ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے۔آمین آج کل کے ماحول میں تربیت اولاد کی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کی بدرجہ اولیٰ ذمہ دار احمدی مائیں ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے : يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَاهْلِيكُمْ نَارًا - (التحریم آیت نمبر 7) یعنی اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ۔احادیث میں بھی تربیت اولاد کا مضمون بار بار بیان ہوا ہے۔ایک دفعہ ایک شخص نے آنحضور صلی اللی ریلی سے والدین کے ان کی اولاد پر حق کی بابت پوچھا تو آپ نے فرمایا والدین ہی تیری جنت اور جہنم ہیں یعنی اچھی تربیت جنت کا وارث بنادیتی ہے اور بری تربیت جہنم کا وارث بنا دیتی ہے۔(ابن ماجہ کتاب الادب) 200