لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 183
ہے۔اور اسلامی تعلیمات میں سے ایک اہم تعلیم جو خواتین کو دی گئی ہے وہ پر دہ ہے۔یورپ کا بے دین معاشرہ اگر اس تعلیم کو تخفیف کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس پر اعتراض کرتا ہے تو اس کی ہر گز پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔آپ وہ کریں جو خدا اور خدا کے رسول کی تعلیم ہے۔اگر لوگوں کے اعتراضات اور معاشرتی دباؤ میں آکر احمدی خواتین بھی پردہ پر عمل چھوڑ دیں تو پھر ہم میں اور غیروں میں فرق کیا رہا۔اور لازمی طور پر پھر اس کے بدنتائج بھی بھگتنا پڑیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: آج کل پر دہ پر حملے کئے جاتے ہیں، لیکن یہ نہیں جانتے کہ اسلامی پر وہ سے مراد زنداں نہیں بلکہ ایک قسم کی روک ہے غیر مرد اور عورت ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکیں۔جب پردہ ہو گا، ٹھوکر سے بچیں گے۔ایک منصف مزاج کہہ سکتا ہے کہ ایسے لوگوں میں جہاں غیر مردو عورت اکٹھے بلا تامل اور بے محابامل سکیں، سیر کریں کیونکر جذبات نفس سے اضطرار آ ٹھو کر نہ دکھائیں گے۔بسا اوقات سننے اور دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسی قومیں غیر مردو عورت کے ایک مکان میں تنہار ہنے کو حالانکہ دروازہ بند ہو کوئی عیب نہیں سمجھتیں۔یہ گویا تہذیب ہے۔انہی بد نتائج کو روکنے کے لئے شارع اسلام نے وہ باتیں کرنے کی اجازت ہی نہ دی جو کسی کی ٹھو کر کا باعث ہوں۔ایسے موقع پر یہ کہہ دیا کہ جہاں اس طرح غیر مرد و عورت ہر دو جمع ہوں تیسر ا اُن میں شیطان ہوتا ہے۔ان 183