میری والدہ — Page 96
۹۶ عمر کے معلوم ہوتے ہیں کہنی پر ٹیک لگا کر ہاتھ کھڑا کیا ہوا ہے اور اس پر سر رکھا ہوا ہے۔ان کے دائیں بائیں عزیزم چوہدری عبداللہ خانصاحب اور چوہدری اسد اللہ خاں صاحب بیٹھے ہیں۔ان کی عمریں آٹھ آٹھ نو نو سال کے بچوں کی سی معلوم ہوتی تھیں۔مینوں کے منہ میری طرف ہیں اور تینوں مجھ سے باتیں کر رہے ہیں اور بہت محبت سے میری باتیں سن رہے ہیں اور اس وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ تینوں میرے بیٹے ہیں اور جس طرح گھر میں فراغت کے وقت ماں باپ اپنے بچوں سے باتیں کرتے ہیں۔اسی طرح میں ان سے باتیں کرتا ہوں۔شاید اسکی تعبیر بھی مرحومہ کی وفات ہی تھی کہ الہی قانون کے مطابق ایک قسم کی ابوت یا مامتا جگہ خالی کرتی ہے تو دوسری قسم کی ابوت یا مامتا اس کی جگہ لے لیتی ہے۔مرحومہ کے رشتہ دار مرحومہ کے والد بھی احمدی تھی اور ان کے بھائی چوہدری عبداللہ خاں صاحب دا تا زید کا والے ایک نہایت پرجوش احمدی ہیں اور اپنے علاقہ کے امیر جماعت ہیں۔حضرت خلیفہ اول کے وقت سے مجھ سے اخلاص رکھتے چلے آئے ہیں اور ہمیشہ اظہارا خلاص میں پیش پیش رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرحومہ کو اپنے قرب میں جگہ دے اور ان کے خاندان کو ان کی دعاؤں کی برکات سے محروم نہ کرے اور وہ ان کی وفات کے بعد بھی ان کے حق میں پوری ہوتی رہیں۔الفضل مورخه ۲۲ رمئی ۱۹۳۸ء نمبر ۱۸۸ جلد ۲۶) حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ نے جو عبارت والدہ صاحبہ مرحومہ کے کتبہ پر لکھے جانے کے لئے تجویز فرمائی ہے وہ یہ ہے۔" چوہدری نصر اللہ خاں صاحب مرحوم کی زوجہ عزیزم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب سلمہ اللہ کی والدہ صاحبہ کشف و رویا