میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 89 of 102

میری والدہ — Page 89

۸۹ ہے۔تم نے اچھی طرح اس کا اندازہ نہیں کیا۔اتنے میں سول سرجن صاحب بھی آگئے۔انہوں نے ڈاکٹر لطیف صاحب کے ساتھ مشورہ کر کے کچھ اور ٹیکے تجویز کئے۔میں نے ڈاکٹر صاحب سے الگ دریافت کیا کہ اگر علاج کے لحاظ سے والدہ صاحبہ کا دہلی رہنا ضروری ہو تو چارہ نہیں۔لیکن اگر علاج کے آخری مراحل ختم ہو چکے ہوں۔تو آپ مجھے بتادیں تا میں ان کی یہ خواہش بھی پوری کرنے کی کوشش کروں کہ انہیں قادیان لے جاؤں۔انہوں نے کہا اب تک تو کسی ٹیکے کے نتیجے میں دل کی حالت کی اصلاح نہیں ہوئی لیکن ہم ایک دو اور ٹیکے لگانا چاہتے ہیں۔جن کا نتیجہ پون گھنٹے تک معلوم ہو سکے گا۔اس وقت ہم بتا سکیں گے کہ کیا صورت ہے۔یہ وقفہ گزر جانے کے بعد پانچ بجے کے قریب ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ کسی ٹیکے کا خاطر خواہ اثر نہیں ہوتا۔اب علاج کے سب مراحل ختم ہو چکے ہیں اور دل کی یہ حالت ہے کہ اندازہ ہے کہ آدھ گھنٹہ یا پون گھنٹہ سے زیادہ کام نہیں کر سکے گا۔دہلی سے قادیان کا سفر اس پر میں والدہ صاحبہ کے پاس گیا اور کہا اب میں آپ کو قادیان لے چلتا ہوں۔بہت خوش ہوئیں اور مجھے دعا دی۔ہم نے اسی وقت تیاری شروع کر دی اور شام کی گاڑی سے قادیان روانہ ہو گئے۔طبی لحاظ سے تو اس قدر مہلت ملنا موجب حیرت تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ خواہش بھی پوری کر دی۔آہستہ آہستہ کمزوری بڑھتی گئی اور کسی وقت کچھ بے چینی تبھی ہو جاتی تھی۔لیکن ہوش رات بھر قائم رہا۔والدہ صاحبہ کی آخری گفتگو