میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 5 of 102

میری والدہ — Page 5

مہمان نواز کی اور غریب پروری ان کا خاص شعار تھے۔گو جن حالات میں سے انہیں بچپن میں گزرنا پڑا تھا۔ان کے نتیجہ میں خود انہیں تنگی سے گزر کرنا پڑتی تھی۔لیکن اس کا اثر وہ مہمانوں کی تواضع پر پڑنے نہیں دیتے تھے۔ان کا معمول تھا کہ عشاء کی نماز کے بعد رات کے کپڑے پہن کر وہ مہمان خانے میں چلے جاتے اور ایک خادم کے طور پر مسافروں اور مہمانوں کی خدمت کیا کرتے تھے اور تہجد کے بعد بھی مہمانوں کی خبر گیری کے لئے مہمان خانے میں جو مسجد کے ساتھ ملحق تھا چلے جاتے تھے۔ایک دن فجر کے وقت مہمان خانہ کے خادم نے اطلاع دی کہ ایک مسافر جس نے مہمان خانہ میں رات بسر کی تھی غائب ہے اور اُس کے بستر کا لحاف بھی غائب ہے اور یہ بھی کہا کہ چوکیدار اور ایک دو اور آدمی اُس کی تلاش میں گئے ہوئے ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد یہ لوگ اُس مسافر کو لحاف سمیت پکڑے ہوئے میرے دادا صاحب کے سامنے لے آئے۔انہوں نے دریافت کیا۔میاں تم نے ایسا کیوں کیا ؟ مسافر نے جواب دیا۔حضور ہم گھر میں بچوں سمیت چار نفوس ہیں۔سردی کا موسم ہے اور ہمارے گھر میں صرف ایک لحاف ہے۔میرے دادا صاحب نے کہا اسے چھوڑ دو اور وہ لحاف بھی اُسے دے دیا اور تین روپے نقد دے کر اسے رخصت کیا۔ان کی مہمان نوازی اور سخاوت کی وجہ سے تمام علاقہ میں بلکہ اردگرد کے اضلاع میں بھی لوگ اُن کا نام عزت اور احترام کے ساتھ لیا کرتے تھے۔کے خاندان کی پہلے بھی ہمارے خاندان کے ساتھ رشتہ داری تھی۔میری دادی پناہ بی بی ( جو بہشتی مقبرہ میں دفن ہیں ) کی حقیقی پھوپھی تھیں اور اس طرح میرے نانا میرے والد صاحب کے حقیقی ماموں تھے۔چنانچہ میرے والد اپنے بچپن کا بہت سا حصہ اپنے نھیال میں گزارا کرتے تھے۔میری نانی جو میرے والد صاحب کی ممانی تھیں۔اُن سے بہت پیار کیا کرتی تھیں۔آخر عمر تک