میری والدہ — Page 52
۵۲ کشمیر کا سفر والدہ صاحبہ کو سفر کا بہت شوق تھا اور قدرتی مناظر سے بہت دیکھی تھی۔کسی قسم کے سفر سے گھبرائی نہیں تھیں۔حتی کہ پہاڑی علاقوں میں روپل یا موٹر کا سفر بھی شوق سے کیا کرتی تھیں۔۱۹۲۹ء کے موسم گرما میں حضرت خلیفہ مسیح ایدہ اللہ بنصرہ کشمیر تشریف فرما تھے۔تعطیلات کے آنے پر ہم نے بھی کشمیر کا رخ کیا۔لیکن سرینگر پہنچتے ہی خاکسار کو ایک کمیٹی میں شمولیت کے لئے واپس آنا پڑا۔والدہ صاحبہ سرینگر ہی ٹھہریں۔ان کا ہاؤس بوٹ حضرت صاحب کے قافلہ کے ہاؤس بوٹس کے ساتھ ہی تھا اور عزیزم چوہدری شاہ نواز صاحب اُن کے پاس تھے۔خاکسار کے چلے آنے کے بعد دریائے جہلم میں غیر معمولی طغیانی آگئی اور دو تین روز بہت تشویش کے گزرے۔جب خاکسار واپس سرینگر پہنچا۔تو والدہ صاحبہ سے اُن دنوں کے حالات ئے۔انہوں نے فرمایا۔مجھے اپنی تو فکر نہیں تھی باقی قافلہ والوں کے لئے دعائیں کرتے ہوئے وقت گزرا۔ایک وقت صاحبزادہ میرزا بشیر احمد صاحب والی کشتی خطره میں تھی۔وہ وقت بہت تشویش کا تھا۔جس رات طغیانی بہت بڑھ گئی۔میں تو تمام رات دُعاؤں میں لگی رہی۔لیکن میں نے شاہ نواز کو نہ جگایا کہ خواہ مخواہ یہ تشویش میں رہے گا۔البتہ میں بار بار اس کے کمرہ کے دروازہ میں جا کر اسے دیکھ آتی تھی کہ آرام سے سو رہا ہے اور دعا کرتی تھی کہ یا اللہ یہ اپنے باپ کے گھر کا آخری عمر کا تیرا عطا کردہ چراغ ہے۔اس کی حفاظت کیجیو اور اپنی تو مجھے کوئی ایسی فکر نہیں تھی۔مجھے ؟ • اطمینان تھا کہ حضرت صاحب جب قریب ہیں تو ہمیں کیا خطرہ ہے۔انہی دنوں کا ذکر ہے۔میں نے والدہ صاحبہ کی خدمت میں عرض کی کہ ہم تو لوگوں سے احمدیت کے متعلق لمبی لبی بخشیں کرتے ہیں۔لیکن بہت کم کسی پر اثر ہوتا ہے۔برعکس اس کے آپ کے ساتھ دو چار دفعہ بھی جو عورت مل لیتی ہے ضرور متاثر ہو