میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 51 of 102

میری والدہ — Page 51

۵۱ کے بیٹے نے میری پوری اطاعت کی اور میں اُس سے خوش رہی۔جب میں نے یہ آخری بات کہی تو مسکرا کر کہا۔یہ تو میں اُن سے ضرور کہونگی۔صوبہ بہار کا سفر ۱۹۲۷ء کی گرمیوں کی تعطیلات میں ہم گریڈی (صوبہ بہار ) چوہدری شمشاد علی صاحب مرحوم کے پاس گئے (یہ میرے خسر تھے اور بہشتی مقبرہ میں دین ہیں ) والدہ صاحبہ بھی ہمارے ساتھ تھیں۔وہاں پہنچنے کے دن دوپہر کے بعد سورہی تھیں کہ خواب میں دیکھا کہ محن میں ایک پھلدار درخت ہے اور میرے گھر سے اُس درخت کے پاس گئی ہیں اور ایک شاخ کو پکڑ کر اس سے پھل توڑنا چاہتی ہیں۔اس پر والد صاحب نے انہیں منع کیا اور کہا کہ ابھی یہ پھل پختہ نہیں ہوا اور توڑنے کے قابل نہیں۔جب یہ پھل پکے گا تو میں خود اسے طشتری میں رکھ کر لاؤ نگا۔والدہ صاحبہ نے والد صاحب سے کہا کہ ہم تو ۹۰۰ میل کا سفر کر کے ریل سے آئے ہیں۔آپ اس قدر جلد یہاں کیسے پہنچ گئے ؟ تو انہوں نے جواب دیا میں آپ کے ساتھ ساتھ ہی آیا ہوں۔چوہدری شمشاد علی خاں صاحب نے ایک شام کہا آئیے آپ کو ارواح سے گفتگو کا طریق دکھائیں اور ایک تپائی پر ہاتھ رکھوا کر تجربات شروع کئے۔والدہ صاحبہ سے بھی کہا۔آئیے آپ بھی اس میں حصہ لیں۔انہوں نے ہنس کر کہا بیٹا بھلا یوں بھی کبھی ارواح سے بات چیت ہوتی ہے؟ تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے پھر والدہ صاحبہ کو بلایا کہ آئیے چوہدری (یعنی والد صاحب ) کی رُوح موجود ہے۔اس سے باتیں کر لیں۔والدہ صاحبہ نے جواب دیا۔میری طرف سے کہہ دیں کہ جو کام اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذمہ لگایا ہوا ہے۔اُس کا نباہنا میرے ساتھ باتیں کرنے سے بہت زیادہ مبارک ہے آپ اُسی میں لگے رہیں۔