میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 47 of 102

میری والدہ — Page 47

نام رے رفاقت کے ختم ہونے پر جو ہر دیکھنے والے کے لئے بطور نمونہ کے تھی کسی قسم کے غم کا اظہار نہیں کیا۔اُن کے دل پر جو گزری۔اس سے وہ خودہی واقف ہوں گی۔لیکن دل کی کیفیت انہوں نے دل میں ہی رہنے دی۔کبھی کبھی اس کی کوئی جھلک کسی محرم راز کو نظر آ جاتی تھی۔لیکن حتی الوسع وہ اس کے اظہار سے پر ہیز کرتی تھیں۔۲ اور ۳ بجے صبح کے درمیان ہم والد صاحب کا جنازہ لے کر لاہور سے روانہ ہوئے اور ۸ بجے کے قریب حضرت ام المومنین کے باغ میں پہنچے۔یہ ۳ ستمبر جمعہ کا دن تھا۔حضرت خلیفہ اسی ایدہ اللہ بنصرہ کا تار ڈلہوزی نے آیا کہ اگر طبی لحاظ سے جنازہ میں تاخیر نا مناسب نہ ہو۔تو انتظار کی جائے۔ہم خود جنازہ پڑھائیں گے۔ڈاکٹر صاحبان نے ملاحظہ کے بعد رائے دی کہ تاخیر میں کوئی ہرج نہیں۔چنانچہ حضور کی خدمت میں اطلاع بھیج دی گئی اور حضور کا جواب آیا کہ حضور تشریف لا رہے ہیں۔بارش کی کثرت کی وجہ سے رستہ صاف نہیں تھا۔اس لئے حضور نصف شب کے بعد قادیان پہنچے اور ہفتہ کے دن ۴ ستمبر صبح 9 بجے کے قریب حضور نے نماز جنازہ پڑھائی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار والے قطعہ کے مغرب کی طرف خاص صحابہ کے قطعہ میں والد صاحب کو دفن کرنے کی حضور نے اجازت بخشی۔جب قبر کی مٹی ہموار کی جارہی تھی۔تو یکا یک بارش ہوگئی اور قبر کو ہموار کرنے کے لئے پانی استعمال کرنے کی ضرورت نہ پڑی۔کتبہ کی عبارت حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ بنصرہ نے خود تحریر فرمائی جو یہ ہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم محمدہ ونصلی علی رسوله الكريم و على عبده امسیح الموعود چوہدری نصر اللہ خاں صاحب پلیڈر سیالکوٹ گو ۱۹۰۴ء میں سیالکوٹ کے مقام پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سفر کے ایام میں بیعت میں شامل ہوئے۔لیکن اخلاص دیر سے رکھتے