میری والدہ — Page 43
۴۳ لکھ رہے ہیں اور اپنے کام میں بہت منہمک ہیں۔اُسی کمرہ میں ایک صوفہ پر ایک جوان عورت بیٹھی ہوئی ہے اور شکر اللہ خاں نے تمہارے والد سے مخاطب ہو کر کہا کہ اگر آپ جا رہے ہیں۔تو اس عورت کو ساتھ لیتے جائیں۔تمہارے والد نے وہیں سے گردن پھیر کر ( گویا اپنے کام میں ہرج پسند نہیں کرتے اور جلد ختم کرنا چاہتے ہیں ) جواب دیا۔”میاں مجھے تو جمعہ کے دن چھٹی ہو گی۔والدہ صاحبہ نے مجھے فرمایا کہ چھٹی کے لفظ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ جمعہ کا دن شروع ہوتے ہی رخصت ہو جائیں گے۔اس لئے ڈاکٹر خواہ کچھ کہیں تم ابھی سے سب انتظام کر لواور جمعرات کی شام تک تمام تیاری مکمل کر لینا۔تا کہ ان کے رخصت ہوتے ہی ہم انہیں قادیان لے چلیں۔تمہیں ایسا موقعہ پہلے کبھی پیش نہیں آیا۔ایسا نہ ہو کہ وقت پر گھبرا جاؤ۔اللہ تعالیٰ کی رضا ایسے ہی معلوم ہوتی ہے۔اس لئے ابھی سے تیاری کرلو۔اپنے بھائیوں کو لکھ دو کہ دو تو فوراً یہاں پہنچ جائیں اور ایک تمہاری ہمشیرہ کو لینے چلا جائے۔لیکن جو تمہاری ہمشیرہ کو لینے جائے ، اُسے تاکید کر دی جائے کہ جمعرات کے دن سورج غروب ہونے سے قبل یہاں پہنچ جائے۔یہ بھی انہیں لکھدو کہ تمہارے والد کے کفن کی چادریں فلاں جگہ رکھی ہیں وہ اپنے ساتھ لیتے آئیں لیکن اور کسی کو خبر نہ کریں۔ورنہ گاؤں کے سب لوگ یہاں جمع ہو جائیں گے۔پھر فرمایا صندوق کی تیاری کے لئے بھی کہہ دو اور تاکید کردو کہ جمعرات کی شام تک تیار ہو جائے اور موٹریں بھی کرایہ پر کر لو اور اُن کے متعلق ہدا یو دے دو کہ نصف شب کے بعد ۲ بجے آجائیں۔چنانچہ میں نے اُن کی ہدایات کے مطابق سب انتظام کر دیا۔یہ منگل کا دن تھا۔سوائے سانس کی خفیف تکلیف کے بظاہر والد صاحب کو کوئی تکلیف نہ تھی۔پوری ہوش میں تھے اور بات چیت کرتے تھے۔لیکن کمزوری آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی۔یکم ستمبر بدھ کی صبح کو فجر کی نماز کے بعد میں اکیلا ہی والد صاحب کے پاس تھا۔