میری والدہ — Page 42
۴۲ تمہیں میر اوہ خواب یاد ہے جو چند دن ہوئے میں نے تمہیں بتایا تھا۔وہ دو شخص جن کو خواب میں میں نے کوٹھی سے باہر جاتے ہوئے دیکھا تھا۔وہ یہی دو شخص تھے۔جو اس کمرہ سے ابھی باہر گئے ہیں۔میں نے خواب میں بعینہ انہیں اسی لباس میں دیکھا تھا اور اسی طرح پیٹھ کی طرف سے اُن کے بت مجھے کمرہ سے باہر نکلتے ہوئے نظر آئے تھے۔اس سے چند دن پیشتر والدہ صاحبہ نے اپنا ایک خواب مجھے سنایا تھا کہ میں نے دیکھا کہ دو شخص انگریزی لباس پہنے ہوئے کمرہ سے باہر جارہے ہیں۔کسی نے ان کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ دو شخص چوہدری صاحب ( یعنی والد صاحب) کو قتل کر گئے ہیں۔اس دن سہ پہر تک تو والد صاحب کی طبیعت اچھی رہی۔سہ پہر کو سانس لینے میں تکلیف محسوس ہونے لگی۔پہلے تو پھیپھڑے کے نیچے کچھ درد بھی محسوس ہوتا تھا۔لیکن ۳۰ کی صبح تک درد سے تو آرام ہو گیا۔البتہ سانس کی تکلیف جاری رہی۔علاج معالجہ جاری تھا۔لیکن آہستہ آہستہ حالت تشویش ناک ہوتی گئی۔وہ خود بھی محسوس کرتے تھے کہ یہ بیماری کا آخری مرحلہ ہے۔لیکن اُن کی طرف سے کسی قسم کی بے چینی یا حسرت کا اظہار نہیں تھا۔اس کی صبح کو فجر کے وقت میں اُن کے پاس سے اُٹھ کر نماز پڑھنے کے لئے گیا۔نماز میں میرے رونے کی آواز اُن کے کان میں پڑ گئی۔بہت گھبراہٹ میں انہوں نے والدہ صاحبہ سے کہا۔جلدی جاؤ اور اُسے تسلی دو۔معلوم ہوتا ہے ڈاکٹروں کی باتوں سے گھبرا گیا ہے۔والد صاحب کی وفات کے متعلق والدہ صاحبہ کا ایک رؤیا اُسی دن والدہ صاحبہ نے مجھے اپنا ایک خواب سنایا۔جو انہوں نے گزشتہ رات ہی دیکھا تھا فرمایا میں نے دیکھا کہ تمہارے والد ایک میز کے سامنے کرسی پر بیٹھے کچھ