میری والدہ — Page 32
وقت قادیان پہنچے۔جو والدہ صاحبہ کے سات سال قبل کے رؤیا کے عین مطابق تھا۔ہم ایک دن ہی قادیان ٹھہرے۔اس موقعہ پر مجھے یاد ہے کہ حضرت ام المومنین (متعنا الله بطول حياتها ) نے کمال شفقت سے ہم سب کے لئے اپنے ہاتھ سے کھانا تیار کیا۔دوسرے دن ہم سب لوگ امرتسر تک اکٹھے گئے۔وہاں سے والدہ صاحبہ تو ماموں صاحب کے ہمراہ سیالکوٹ تشریف لے گئیں اور خاکسار والد صاحب کے ہمراہ بمبئی کی طرف روانہ ہوا۔بمبئی سے والد صاحب خاکسار کے جہاز پر سوار ہو جانے کے بعد واپس سیالکوٹ تشریف لے گئے۔خاکسار نے بعد میں سُنا کہ امرتسر سے روانہ ہوتے ہی والدہ صاحبہ کوشش آ گیا اور سیالکوٹ تک کے سفر کا اکثر حصہ اُن کا اسی حالت میں گزرا۔اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اُن دنوں جو میری کیفیت تھی۔اُس کا اس سے اندازہ کر لو کہ تمہارے چلے جانے کے دو چار روز بعد جب تمہارے والد کے سیالکوٹ واپس پہنچنے کا دن آیا تو تمہاری دادی صاحبہ نے جو ان دنوں سیالکوٹ ہی مقیم تھیں، کہنا شروع کیا الحمد للہ آج میرا بیٹا واپس گھر پہنچ جائے گا۔اُن کے ایک دفعہ ایسا کہنے پر تو میں خاموش رہی۔لیکن جب اُنہوں نے تھوڑے تھوڑے وقفہ سے دو تین دفعہ ایسا کہا۔تو میں نے اپنی وحشت میں اُن سے کہہ دیا: پھوپھی جان آپ کیوں بار بار اپنی سے تابی کا اظہار کر رہی ہیں۔آپ کا بیٹا کہیں سمندر یار نہیں گیا۔اگر آج نہیں آئے گا۔تو کل آجائے گا۔فرماتی تھیں کہ میں جب اس واقعہ کو باز کرتی ہوں۔تو ایک ندامت ہی محسوس کرتی ہوں کہ میں نے کیوں ایسا کہا۔لیکن یہ فقرہ بے اختیاری میں میرے بدنہ سے