میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 19 of 102

میری والدہ — Page 19

19 وپیہ لے لیا اور اپنی جیب سے ایک روپیہ نکال کر والدہ صاحبہ کو دیا اور کہا۔میرے پاس اب یہ ایک ہی روپیہ ہے یہ لے لیجئے۔لیکن یہ محمد شاہی روپیہ ہے۔اس پر کلمہ کندہ ہے۔اس کی بے ادبی نہ ہو۔اس خواب کے بعد والدہ صاحبہ کو یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ انہیں ایک اور فرزند عطا کریگا۔لیکن ساتھ ہی یہ فکر تھی کہ ہمارا ایک بھائی حمد اللہ خاں جو عزیز شکر اللہ خاں سے چھوٹا اور عزیز عبد اللہ خاں سے بڑا تھا اور جس کی صحت اچھی نہیں رہتی تھی اور کمزور سا تھا فوت ، وجائے گا۔چنانچہ چند ماہ بعد عزیز اسد اللہ خاں پیدا ہو ااور اس کے پیدا ہونے کے کچھ ماہ بعد حمد اللہ خال خسرہ سے بیمار ہوا اور چند دن بیمار رہ کر فوت ہو گیا۔والدہ صاحبہ نے اس موقعہ پر بھی نہایت صبر سے کام لیا اور کوئی کلمہ تک منہ سے نہیں نکالا۔جو اللہ تعالٰی کی ناراضگی کا موجب ہوتا۔حمد اللہ خاں فجر کے وقت فوت ہو اور دس بجے سے قبل اس کی تیز تکلمین اور تد فین سے فارغ ہو کر والد صاحب حسب معمول مقدمات کی پیروی کے لئے کچھری چلے گئے اور ہمیں بھی وقت پر تیار کر کے مدرسہ بھیج دیا گیا۔گھر میں احمدیت کا چرچا اس زمانہ میں ہمارے نانا صاحب اور ماموں صاحب احمدی ہو چکے تھے۔والد صاحب بھی الحکم منگوایا کرتے تھے اور سلسلہ کی کتب کا مطالعہ کیا کرتے تھے اور مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کے درس قرآن کریم میں شامل ہوا کرتے تھے۔مولوی مبارک علی صاحب کے احمد کی ہو جانے کے چند سال بعد چھاؤنی سیالکوٹ کے بعض غیر احمد کی اشخاص نے جمعہ مسجد چھاؤنی سیالکوٹ کی امامت اور تولیت سے مولوی مبارک علی صاحب کو علیحدہ کرنے کے لئے مقدمہ دائر کر دیا تھا اور جماعت احمد یہ سیالکوٹ نے والد صاحب کو مولوی مبارک علی صاحب کی طرف سے متقدمہ کی پیروی کرنے کے لئے وکیل مقرر کیا تھا۔