میری پونجی — Page 90
سے تھے۔وہ دمشق سے اپنے خط مورخہ 10اکتوبر 1983ء میں لکھتے ہیں: برادر مکرم جناب مصباح الدین احمد صاحب! آپ کا گرامی نامہ پڑھ کر بے حد خوش ہوا۔55 سال بعد ایک مہربان دوست کی خیریت کی خبر سنے کی خوشی آپ ہی اندازہ کر سکتے ہیں۔سن 1973 سے لیکر سن 1983ء تک میں پانچ دفعہ پاکستان آیا ہوں اور ہمیشہ ریڈیو ٹیلیویژن اور اخباروں میں میرا ذکر آیا ہوتا تھا۔اور میں اپنی طرف سے پرانے دوستوں کی تلاش کیا کرتا تھا۔علی گڑھ کے چند پروفیسروں سے ملاقاتیں ہوئیں۔اس سال میں فروری اور مارچ کے مہینوں میں پاکستان میں گورنمنٹ کا مہمان رہا اور صدر صاحب سے ملاقاتیں ہوئیں۔مگر بد قسمتی سے میرے پاس آپ کا پتہ معلوم نہ تھا ورنہ میں خود آپ سے ملنے چنیوٹ میں حاضر ہوتا۔باقی رہا میری اردو زبان کے بارے میں جو کچھ آپ نے فرمایا ہے بجا ہوتا اگر میری یہ زبان میرے خون میں جاری نہ ہوتی۔اگر چہ آجکل میری اردو زبان اس قدر نفیس نہیں جس قدر پرانے زمانے میں تھی ، تاہم پڑھ لکھ لیتا ہوں۔میں نے پاکستان کے متعلق پانچ کتابیں لکھی ہیں لہذا مجھے ستارہ امتیاز کے اعزاز سے نوزا گیا۔مجھے پاکستان سے بہت محبت ہے اور میں اسکو اسلام کا قلعہ سمجھتا ہوں۔خدا اسکو خطروں سے محفوظ رکھے۔10/10/1983 احسان حقی (دمشق) (90)