میری پونجی — Page 89
سارے اشعار چھپوا کر ان کا نوٹ مکمل کیا۔مطلوبہ اشعار شامل ہیں۔دعاؤں میں یاد رکھیں۔خاکسار آپکے لیے دعا کرتا ہے۔خاکسار عبد الواحد نشیں، بے ریائم ازرو اخلاص گفت اے کلام تو فروغ دیده بر ناو پیر درمیان انجمن معشوق ہر جائی مباش گاه با سلطان باشی گاه باشی با فقیر اے ہمنشیں معذور میدانم ترا فتمش طلسم امتیازی ظاہری ہستی اسیر من که شمع عشق را در بزم دل افرو ختم سوختم خود را و پیمان دونی هم سو ختم ترجمہ: میرے مخلص دوست نے اخلاص سے کہا کہ تیر اکلام جوان اور بوڑھے کی آنکھ کی روشنی ہے۔انجمن میں ہر جگہ معشوق نہ بن بھی تو بادشاہ کے ساتھ ہوتا ہے اور کبھی گدا کے ساتھ۔اے دوست میں تجھے معذور سمجھتا ہوں تو امیتاز کے ظاہری طلسم میں گرفتار ہے میں نے عشق کی شمع کو دل کی بزم میں روشن کر لیا ہے،خو دکو مٹادیا اور دوسرے ہر بندھن کو بھی جلا دیا ہے۔حضرت میاں عزیز احمد صاحب نے مندرجہ بالا اشعار سنائے اور فرمایا یہ اشعار ڈاکٹر صاحب نے فی البدیہہ کہے۔جناب ڈاکٹر احسان حقی پاکستان کے نامور مصنف اور دانشور ہیں۔حلقہ ابلاغ کی جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ستارہ امتیاز کا اعزاز رکھتے ہیں۔والد بزرگوار سردار صاحب کے عقیدت مندوں میں (89)