میری پونجی

by Other Authors

Page 78 of 340

میری پونجی — Page 78

تعلقات قادیان کے زمانہ سے ہی سردار صاحب کا لالہ ملاوامل کے ساتھ بہت ملنا جلنا تھا اور ایک دوسرے کیلئے نیک جذبات رکھتے۔لالہ ملا وامل کا سید نا حضرت اقدس مسیح موعود کی کتب میں اکثر ذکر آیا ہے۔اختلاف عقیدہ و مذہب کے باوجود وہ حضرت مسیح موعود کے ساتھ اخلاص و محبت رکھتے تھے اور وہ بہت سے نشانات کے شاہد تھے۔سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود انہیں اپنی دوسری شادی پر اپنے ساتھ دہلی لے کر گئے تھے۔آپ کے تعلق داروں میں پٹھانکوٹ کے ایک بہت بڑے ہندو رئیس بھی تھے جو رائے صاحب بہادر کا خطاب رکھتے تھے ، رائے بہادر صاحب کا ایک عرصہ سے اصرار چل رہا تھا کہ وہ اپنے اہل وعیال کے ساتھ سیر کی غرض سے پٹھانکوٹ تشریف لائیں۔چنانچہ ایک موقع پر انکے ہاں مع اہل و عیال مہمان ہوئے۔رائے بہادر صاحب نے اپنی حویلی میں بغیر کسی تکلف کے ٹھہرایا، خدمت مدارت کی اور پہاڑوں کی سیر بھی کروائی۔حضرت سیٹھ عبد اللہ الہ دین صاحب آف سکندر آباد کے ساتھ حضرت سردار صاحب کا ایک عرصہ سے روحانی تعلق قائم تھا۔انکے ایک صاحبزادے علی محمد عبد اللہ صاحب بھی انہی دنوں انگلستان میں طالب علم تھے، جن دنوں سردار صاحب وہاں کے مبلغ تھے۔اور وہ انکے ساتھ مشن کے کاموں میں ہاتھ بھی بٹایا کرتے تھے۔حضرت سیٹھ صاحب کا اکثر اصرار رہتا کہ سردار صاحب ان کے پاس سکندر آباد آئیں تا کہ وہ انکی کچھ خدمت کر سکیں۔ان کی اس خواہش کی تکمیل میں ایک موقع پر ان کا سکندر آباد جانا ہو گیا۔جب وہ بذریعہ ریل گاڑی سکندر آباد پہنچے تو جیب میں دیکھا تو بٹوہ غائب تھا۔بس آنے جانے کی یہی پونچی تھی جو کوئی جیب کتر ا لے اُڑا تھا۔حضرت سیٹھ صاحب کے ہاں پہنچے تو اس نقصان کا نہ تو ذکر کیا اور نہ ہی چہرے سے اس پریشانی کو ظاہر ہونے دیا۔بے تکلفی سے ان کی مہمانی اور صحبت سے لطف اٹھانے لگے۔مگر یہاں پہنچتے ہی انہوں نے ایک خط قادیان گھر میں لکھ دیا کہ اس طرح میرا نقصان ہو گیا ہے اسلیے بذریعہ تار رقم بھجوا دیں۔۔چنانچہ ہماری (78)