میری پونجی — Page 72
بلانے والا ہے سب سے پیارا، اسی پہ اے دل تو جان فدا کر میت حسب وصیت بہشتی مقبرہ ربوہ پہنچائی گئی۔3 اگست 1988ء کو بعد نماز عصر حضرت مولانا دوست محمد صاحب شاہد، مورخ احمدیت نے نماز جنازہ پڑھائی اور مکرم مولا نانسیم سیفی صاحب نے قبر تیار ہونے پر دعا کروائی۔تعزیت نامے سید نا حضرت خلیفہ المسح الرابع کی طرف سے 5۔اگست کو 1988ء کو عاجز کے نام حسب ذیل تعزیت کا خط ملا : پیارے عزیزم بشیر الدین سامی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کے والد صاحب کی وفات کا بہت صدمہ ہوا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت فرمائے اور اعلی علیین میں جگہ دے اور آپ سب کو صبر جمیل کی توفیق دے۔میری طرف سے تمام عزیزوں کو تعزیت کا پیغام پہنچا دیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔والسلام خاکسار مرزا طاہر احمد خلیفة المسیح الرابع (72)