میری پونجی — Page 68
خوف خدا ر کھنے کو کہا ہے۔تو اس مومن کے نمونہ سے اللہ تعالیٰ نے ان معذور حال بندوں کو جو ایمان کے اظہار کی قدرت نہیں پاتے ان کیلئے یہ روا ہے وہ اپنا ایمان ظاہر نہ کریں لیکن ان کا عمل اور قول ایسا نہ ہو کہ وہ اس بات کا مظہر ہو کہ لوگ اسے بھی اپنے میں سے ہی ہونے والا شمار کر لیں۔ان کا کوئی عمل اور کوئی قول ہرگز ہرگز ایسا نہ ہو جو اسکی طرف سے انکار کا تصور دیدے۔اس تفصیلی وضاحت کے بعد مدیر موصوف کو توجہ دلاتے ہیں کہ آپ نے حافظ مبارک علی قاسمی کے الزام کہ قادیانی حضرت مرزا صاحب کو محمد رسول اللہ صلی یا پیام قرار دیتے ہیں۔اس کے جواب میں یہ لکھ دیا: دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیا مرزا صاحب نے خود کو محمد رسول اللہ قرار دیا؟ ہمیں اعتراف ہے کہ احمدیہ فرقے کا لٹریچر ہماری نظر سے نہیں گزرا۔اس لیے اس کے بارے میں کوئی رائے نہیں دے سکتے۔“ محترم سردار صاحب مدیر موصوف کے ان دو فقرات کے سٹینڈ پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اس الزام کے درست ہونے یا نہ ہونے کے متعلق کوئی سٹینڈ لینے کیلئے احمدیہ لٹریچر کا نظر سے گزرنا ضروری نہیں۔کسی حقائق آگاہ ذہن ودہن سے نکلنا تو در کنار کسی گڈریے کے ذہن میں بھی نہیں گزرسکتا۔سوسال سے جب سے جماعت احمدیہ کا وجود نمود میں آیا ہے ذی علم طبقہ کا ذکر ، گڈریے جیسا فہم و ادراک والا طبقہ جماعت کے گردو پیش چلا آ رہا ہے۔انہوں نے جماعت احمدیہ کے لٹریچر کا ایک حرف بھی نہیں پڑھا اور وہ پورے شعور سے اس الزام کی تردید کر دیگا کہ احمدیوں کے ساتھ زندگی گزارنے کے علم و شعور سے بلا روک ٹوک کہیں گے کہ احمدی مرزا صاحب کو محمد رسول اللہ نہیں قرار دیتے۔۔۔آپ کا تو معیار علم بلند ہے۔کہ آپ صحافی ہیں، اخبار نویس ہیں ، جن کی نگاہ محدود نہیں ہوتی وہ ماضی اور مستقبل پر نگاہ رکھنے والے ہوتے ہیں۔وہ اس بات سے (68)