میری پونجی — Page 38
اور اس میں پھلدار درختوں کا باغ تھا۔مشن ہاؤس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر چائے پی ، پھر باغ میں ٹہلنے کو نکلے اور ساتھ ساتھ پرانے واقعات کا جس رنگ میں تذکرہ جاری تھا کہ وہ اس بات کی غمازی کر رہا تھا کہ ان کے دل پر ایک خاص اثر تھا۔جماعت احمدیہ کا برطانیہ پہنچنا اور تبلیغی مشن کا قیام، یہ سارے استعجاب ان کے چہرے سے نمایاں طور پر ان کے دل کی کیفیت اور حیرت کا پتہ دے رہے تھے۔کرنل ڈگلس ٹہلتے ٹہلتے ایک دم ایک جگہ رک گئے اور میری طرف نظر اٹھا کر بولے: O, You people have reached here and have acquired a landed property? O,it is simply an astonishing and wonderful thing that a person appeared in my court as an accused one, his followers in a short span of time, having crossed over oceans, have reached to convert Great Britain and Europe to Islam? ترجمہ: اوہ ! آپ لوگ یہاں پہنچ گئے ! اور عمارت بھی حاصل کر لی ! ایک آدمی جو میری عدالت میں ایک ملزم کے طور پر پیش ہوا تھا ، اس کے ماننے والے اتنے تھوڑے عرصہ میں سمندروں کو چیرتے ہوئے گریٹ برٹن اور یورپ کو اسلام سے روشناس کروانے یہاں تک آگئے۔حضرت مسیح موعود کی شبیہ مبارک اپنے تصور میں لاتے ہوئے مجھ سے پھر مخاطب ہوئے: Listen Moulawi Sahib, from the first moment I saw his face, it has remained before my eyes۔At this moment when I am talking about him, I feel that he is in person before my eyes۔ترجمہ: سنو مولوی صاحب ! جب سے میں نے ان کا چہرہ دیکھا ہے انکی تصویر میری آنکھوں کے سامنے رہتی ہے اب بھی جب کہ میں آپ سے مخاطب ہوں یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں انہیں بنفس نفیس اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں۔(38)