میری پونجی

by Other Authors

Page 313 of 340

میری پونجی — Page 313

میری سوچ جب بھی ماضی کے راستوں کا سفر کرتی اسلام آباد کے گھر پہنچتی ہے تو وہاں ایک نہایت خاموش طبع ، صابر، شاکر ، نہایت نرم دل خوش مزاج، خوش اخلاق ، ہر دلپسند ، ہر دلعزیز ، نہایت مہمان نواز ، کفایت شعار، عجز و انکساری سے بھر پور ، قناعت پسند، سلیقہ شعار اور گھر یلوسی بشری سے ملاقات ہوتی ہے۔جس کی زندگی کے تین ہی ستون تھے۔شوہر کی کامل فرمانبرداری ، بچوں سے بے لوث محبت اور گھر۔ہماری زندگیوں کا وہ واحد سہارا، ہر خوشی ہر غم اور زندگی کے ہر موڑ پر ایک ہی سوال ہوتا ہے اور ہمارے ہزاروں سوالوں کا ایک جواب: آلیس الله بکاف عبده۔۔۔۔کیا اللہ اپنے بندے کیلئے کافی نہیں۔۔میری امی کی بہت خواہش تھی کہ میرا آخری اور مستقل ٹھکانہ ربوہ میں ہی ہولیکن بظاہر ایسا ممکن نہیں لگتا تھا اس لیے کہ امی کی وصیت نہیں تھی۔اللہ تعالیٰ نے اس وقت ایسے سامان پیدا کر دئے کہ ہم امی کو ربوہ ہی لیکر گئے۔29 ستمبر کی صبح ہماری دادی جان بھی خدا تعالیٰ کو پیاری ہو گئیں تھیں اور سب رشتہ دار اُن کا جنازہ لیکر ربوہ چلے گئے۔میرے ابو اور چھوٹی بہن بینا بھی دادی جان کے جنازے کے ساتھ چلے گئے تھے اور امی کے پاس میں اور میرے دونوں بھائی میری خالہ اور ہمارے بہت ہی محترم جمیل شمائل بھائی تھے۔جب امی کی وفات کی خبر ربوہ فضل منزل پہنچی تو وہاں سب کی عجیب ہی کیفیت تھی۔۔۔۔اور ابو جو کہ دل کے مریض بھی ہیں۔اُن کیلئے تو ایک طرف زندگی دینے والی ماں اور دوسری طرف زندگی بھر کا ساتھ نبھانے کا وعدہ کرنے والی بیوی۔۔۔۔۔فیصلہ کرنا بہت مشکل تھا۔۔۔۔۔وہیں رہیں یا واپس آئیں؟ پھر ہماری خالہ جنہیں ہم نے ہمیشہ آنٹی ہی کہا ہے مگر وہ ہمیشہ ہمارے لیے ماں کے روپ میں ہی رہی ہیں۔انہوں نے اور ابو نے مل کر فیصلہ کیا کہ ہم امی کو لیکر ربوہ جاتے ہیں اور ہم یہاں انتظامات میں لگ گئے۔میری امی کو ایک شعر ہمیشہ ہی اچھا لگا کرتا تھا۔ایک سانس کی طناب جو ٹوٹی تو اے شکیب دوڑے ہیں لوگ جسم کے خیمے کو تھامنے (313)